سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 75
سیرت المہدی 75 حصہ چہارم رواں تھی۔اور دن بھر جگت پھبتی بازی تمسخر اور استہزاء کے سوا ان کا کوئی علمی مشغلہ نہیں رہا۔اور وہ بھی صحت کے لحاظ سے چراغ سحری ہے۔مضمون مذکور میں اس لئے ساتھ لے گیا تھا کہ حضرت مولوی صاحب کو ایسے حالات سے دلچسپی ہے۔چنانچہ میں نے وہ مضمون حضرت مولوی صاحب کے پیش کیا۔مولوی صاحب نے مضمون پڑھ کر اخبار خاکسار کو واپس دیتے ہوئے فرمایا کہ اس پر چہ کو بحفاظت جیب میں رکھنا۔اگر موقعہ میسر آیا تو حضرت صاحب کے پیش کریں گے۔حضرت صاحب ایسے حالات بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔خاکسار نے وہ اخبار کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ظہر کی نماز کے بعد حضرت صاحب مسجد اقصیٰ میں تشریف فرما تھے کہ مولوی صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ یہ ایک اخبار لائے ہیں جس کا ایک مضمون حضور کے سننے کے قابل ہے۔حضرت صاحب کے اشارہ پر میں نے وہ مضمون سنانا شروع کر دیا۔حضور بڑی توجہ سے سنتے رہے۔غالباً دو تین صفحات کا وہ مضمون تھا۔جب مضمون ختم ہو چکا تو حضور نے مولوی صاحب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ مولوی صاحب! اگر آج سید صاحب زندہ ہوتے تو میں اُن سے پوچھتا کہ جن دنوں مسٹر محمود ولایت میں تعلیم بیرسٹری پارہے تھے آپ کے دل سے بار ہا یہ دعا نکلی ہوگی کہ وہ ایسی قابلیت کا اہل ہو کہ انگریز بھی اس کی قابلیت کا سکہ مانیں۔اور ایسے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو جس کے ماتحت انگریز ہوں لیکن یہ کبھی آپ کی آرزو دعاؤں کے وقت نہیں ہوگی کہ وہ خدا اور اس کے رسول کا فرمانبردار اور احکام شریعت کا دل سے پابند اور اسلام کا سچا خادم اور نمونہ ہو۔پس جو کچھ آپ نے مانگاوہ مل گیا۔اور خدا سے جس چیز کے مانگنے میں بے پرواہی کی جائے وہ نہیں ملتی۔1096 بسم الله الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ قادیان میں آریوں نے ایک اخبار نکالا تھا اور اس میں سلسلہ کے خلاف سخت کلامی اختیار کی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان کے آریہ اور ہم ایک کتاب لکھی۔اور حضور نے فرمایا تھا کہ خدا ایسا نہیں کر سکتا کہ یہ ہمارے ہمسائے میں رہ کر بدزبانی کریں اور بچ جائیں۔پھر آریوں میں طاعون ہوئی۔جس کو طاعون ہوتی ، میں اور شیخ یعقوب علی صاحب اُسے دیکھنے جاتے اور سب آریہ کا رکن اخبار مذکور کے جو تھے مر گئے۔صرف مالک اخبار بیچ رہا۔پھر اُسے بھی طاعون ہوئی۔میں اور شیخ صاحب اسے دیکھنے جاتے۔پھر