سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 76
سیرت المہدی 76 حصہ چہارم اسے پلنگ سے نیچے اتارلیا گیا۔جیسا کہ ہندو مرتے وقت کرتے ہیں مگر وہ پھر ذرا اچھا ہو گیا اور اسے دوبارہ پلنگ پر لٹا دیا گیا اور وہ باتیں کرنے لگ گیا۔بعض آر یہ جو ہمیں جانتے تھے ہم سے کہنے لگے کہ تمہاری یہ مراد پوری نہیں ہوگی کہ یہ مرے۔جب میں اور شیخ صاحب اس کے گھر سے واپس آئے تو ہمارے آنے سے پہلے کسی نے حضرت صاحب کی خدمت میں شکایت کر دی کہ یہ دونوں اس طرح آریوں کو مرنے دیکھنے جاتے ہیں۔حضور بالائی نشست گاہ میں تشریف فرما تھے اور ہمیں وہیں بلوایا۔کیونکہ ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ کسی نے ہماری شکایت کردی ہے۔شیخ صاحب نے مجھے بھیجا۔جب میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ آپ کیوں وہاں جاتے ہیں ؟ اور اسی وقت حضور نے فرمایا کہ مجھے ابھی الہام ہوا ہے جس کے معنے یہ تھے کہ مراے خائن ! اس الہام پر حضور نے فرمایا کہ اب جا کر دیکھو۔میں اور شیخ صاحب اسی وقت گئے تو چیخ و پکار ہورہی تھی اور وہ مر چکا تھا۔ہم وہاں بیٹھے اور پھر چلے آئے۔رات کو مفتی فضل الرحمن صاحب کی بیٹھک میں اس کے مرنے پر ہم نے ایک قسم کی خوشی کی۔حضرت صاحب پر یہ بھی کسی نے ظاہر کر دیا۔صبح کو جب آپ سیر کے لئے تشریف لے گئے تو ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ میرا ایک آدمی مر گیا ہے اور تم خوشی کرتے ہو ( مطلب یہ تھا کہ میں تو اس کے اسلام لانے کا خواہاں تھا) اور فرمایا مجھے خوف ہے کہ ہم میں ایسا واقعہ نہ ہو جائے۔ہمیں اس پر بہت شرمندگی ہوئی۔راستہ میں لاہور سے تار آیا کہ الہی بخش اکو نٹنٹ پلیگ سے مر گیا۔جس نے حضور کے خلاف ایک کتاب میں اپنے آپ کو موسیٰ اور حضرت صاحب کو فرعون اپنے الہام کی رو سے لکھا تھا۔میں اس تار کوسن کر بے اختیار ہنس پڑا۔حضرت صاحب میری طرف ذرا دیکھنے لگے تو میں نے عرض کی کہ حضور مجھے ہنسی اس لئے آگئی۔کہ یہ اپنے آپ کو موسیٰ کہتا تھا اور موسیٰ صاحب پہلے ہی پلیگ سے چل دئے۔آپ نے فرمایا! اس کی کتاب میں سے تمام وہ الہامات جو اس کو ہمارے خلاف ہوئے ہیں مجھے نکال کر دو۔چنانچہ میں نے وہ نوٹ کر کے دے دیئے۔1097 بسم الله الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہی بخش اکو نٹ کی کتاب سے الہامات نکال کر دیئے۔تو اس لے الہام کے عربی الفاظ ہیں۔مُتْ أَيُّهَا الخوان - تذکرہ ایڈیشن چهارم صفحه ۲۰۱ (ناشر)