سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 70
سیرت المہدی 70 0 حصہ چہارم اگر ان بزرگوں نے بعض ایسے اعمال اختیار کئے ہوں جو اُن کے خیال میں اس وقت اس روحانی وبائی مرض میں مفید تھے تو وہ ایک وقتی ضرورت تھی اور بوجہ ان کی نیک نیتی کے اس کو خدا کے حوالہ کر دینا مناسب ہے۔حضور نے فرمایا! اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی قافلہ راستہ بھول کر ایسے جنگل میں جا نکلے جہاں پانی کا نشان نہ ہو۔اور ان میں سے بعض پیاس کی شدت سے زبان خشک ہو کر جان بلب ہوں۔اور ان کے ہمراہی درختوں کے پتے پتھروں سے کوٹ کر ان کا پانی نکالیں۔اور تشنہ دہانوں کے حلق میں ڈالیں تاکسی طرح پانی ملنے تک ان کا حلق بالکل خشک ہو کر ہلاکت کا موجب نہ ہو جائے۔یا دامن کوہ میں پتھروں کو تو ڑ کر اور بڑی مشکلوں سے کاٹ کاٹ کر کنواں کھودا جاتا ہے یا ریگستان میں بڑی مصیبت سے اگر سوسو ہاتھ کھودا جائے تو کنواں برآمد ہوتا ہے۔لیکن جہاں دریا جاری ہو۔کیا وہاں بھی ان تکالیف کو اٹھانے کی ضرورت ہے؟ فرمایا۔پس شکر کرنا چاہئے کہ اس وقت خدا نے پہاڑ کی چوٹی پر سے مصفی اور شیریں پانی کا چشمہ جاری فرمایا ہے جس کے ہوتے ہوئے ان تکالیف میں پڑنا خدا کی ناشکری اور جہالت ہے۔حضور کے اس ارشاد کے بعد جو ایک پر سرور کیفیت خاکسار نے محسوس کی وہ یہ تھی اُن امور سے جن کا اسوہ حسنہ سے ثبوت نہ تھا۔حضور نے اتفاق نہ فرمانے کے باوجود اُن متوفی بزرگوں کے متعلق کوئی کلمہ ر کیک نہ فرمایا۔بلکہ ایک وقتی ضرورت کے ماتحت اُن کی نیک نیتی پر محمول فرما کر اُن کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا۔1090 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے بیٹھنے کی جگہ کھلے کواڑ کبھی نہ بیٹھتے تھے۔حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب ( حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آکر کہتے ”ابا کنڈا کھول“ اور حضور اٹھ کر کھول دیتے۔میں ایک دفعہ حاضر خدمت ہوا۔حضور بوریے پر بیٹھے تھے۔مجھے دیکھ کر حضور نے پلنگ اٹھایا اور اندر لے گئے۔میں نے کہا۔حضور میں اٹھا لیتا ہوں۔آپ فرمانے لگے بھاری زیادہ ہے آپ سے نہیں اٹھے گا۔اور فرمایا آپ پلنگ پر بیٹھ جائیں۔مجھے یہاں نیچے آرام معلوم ہوتا ہے۔پہلے میں نے انکار کیا۔لیکن آپ نے فرمایا۔نہیں آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں۔پھر میں بیٹھ گیا۔مجھے پیاس لگی تھی۔میں نے گھڑوں کی طرف نظر اٹھائی۔وہاں کوئی پانی پینے کا برتن نہ تھا۔آپ نے مجھے دیکھ کر