سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 69
سیرت المہدی 69 حصہ چہارم سے گزر کر مسجد میں تشریف لے جاتے تھے۔ایک دفعہ سحری کے وقت دروازہ کھلا۔خاکسار سامنے بیٹھا تھا۔یہ دیکھ کر کہ حضرت صاحب دروازہ میں کھڑے ہیں۔تعظیماً کھڑا ہو گیا۔حضور نے اشارہ سے اپنی طرف بلایا۔میں جب آگے بڑھا ( تو دیکھا) کہ حضور کے دونوں ہاتھوں میں دو چینی کے پیالے ہیں۔جن میں کھیر تھی۔حضور نے وہ دونوں پیالے خاکسار کو دیتے ہوئے فرمایا کہ جن احباب کے نام ان پر لکھے ہوئے ہیں دیکھ کر اُن کو پہنچا دو، میں نے وہ حکیم صاحب کے پیش کئے۔انہوں نے مسجد میں سے کسی کو طلب کر کے وہ پیالے اُن احباب کو پہنچا دیئے جن کے نام سیاہی سے لکھے ہوئے تھے۔اس کے بعد پھر دروازہ کھلا۔پھر حضرت صاحب دو پیالے پکڑا گئے۔وہ بھی جن کے نام کے تھے ان کو پہنچا دیئے گئے۔اس طرح حضرت صاحب خود دس گیارہ دفعہ پیالے لاتے رہے اور ہم اُن اشخاص کو مہمان خانہ میں پہنچاتے رہے۔اخیر دفعہ میں جو دو پیالے حضور نے دیئے۔اُن میں سے ایک پر حکیم صاحب کا نام اور دوسرے پر میرا نام تحریر تھا۔حکیم صاحب نے کھیر کھا کر کہا کہ آج تو مسیح کا من وسلویٰ اتر آیا۔1089 بسم الله الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خاکسار کے قیام قادیان کے دنوں میں عشاء کی نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔مسجد بھری ہوئی تھی۔ایک پنجابی مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر حضور سے عرض کیا کہ صوفیوں کے فرقہ نقش بندیہ وغیرہ میں جو کلمہ نفی اثبات کو پیشانی تک لے جاکر اور اطراف پر گذارتے ہوئے قلب پر الا اللہ کی ضرب مارنے کا طریق مروج ہے۔اس کے متعلق حضور کا کیا حکم ہے؟ حضور نے فرمایا کہ چونکہ شریعت سے اس کی کوئی سند نہیں اور نہ اسوہ حسنہ سے اس کا کچھ پتہ چلتا ہے اس لئے ہم ایسے طریقوں کی ضرورت نہیں خیال کرتے۔اس مولوی نے پھر کہا کہ اگر یہ ا مور خلاف شرع ہیں تو بڑے بڑے مسلمہ اور مشاہیر جن میں حضرت احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ جیسے اولیاء بھی ہیں جنہوں نے مجددالف ثانی ہونے کا دعوی بھی کیا ہے۔یہ سب لوگ بدعت کے مرتکب ہوئے اور لوگوں کو اس کی ترغیب و تعلیم دینے والے ہوئے۔حضور نے فرمایا۔اسلام پر ایک زمانہ ایسا بھی آیا ہے کہ فتوحات کے بڑھ جانے اور دنیاوی دولت اور سامان تعیش کی فراوانی سے لوگوں کے دلوں سے خدا کے نام کی گرمی سرد پڑتی جارہی تھی۔اس وقت