سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 71 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 71

سیرت المہدی 71 حصہ چہارم فرمایا۔کیا آپ کو پیاس لگ رہی ہے۔میں لاتا ہوں۔نیچے زنانے سے جا کر آپ گلاس لے آئے۔پھر فرمایا۔ذرا ٹھہریے اور پھر نیچے گئے اور وہاں سے دو بوتلیں شربت کی لے آئے۔جو منی پور سے کسی نے بھیجی تھیں۔بہت لذیذ شربت تھا۔فرمایا ان بوتلوں کو رکھے ہوئے کئی دن ہو گئے کہ ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے کسی دوست کو پلا کر پھر خود پئیں گے۔آج مجھے یاد آ گیا۔چنانچہ آپ نے گلاس میں شربت بنا کر مجھے دیا۔میں نے کہا پہلے حضور اس میں سے تھوڑا سا پی لیں تو پھر میں پیوں گا۔آپ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا۔اور میں نے پی لیا۔میں نے شربت کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا کہ ایک بوتل آپ لے جائیں اور ایک باہر دوستوں کو پلا دیں۔آپ نے اُن دو بوتلوں سے وہی ایک گھونٹ پیا ہوگا۔میں آپ کے حکم کے مطابق بوتلیں لے کر چلا آیا۔1 109 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیے ہوئے تھے اور سید فضل شاہ صاحب مرحوم حضور کے پاؤں دبا رہے تھے۔اور حضرت صاحب کسی قد ر سو گئے۔فضل شاہ صاحب نے اشارہ کر کے مجھے کہا کہ یہاں پر جیب میں کچھ سخت چیز پڑی ہے۔میں نے ہاتھ ڈال کر نکال لی تو حضور کی آنکھ کھل گئی۔آدھی ٹوٹی ہوئی گھڑے کی چپنی اور ایک دو ٹھیکرے تھے۔میں پھینکنے لگا تو حضور نے فرمایا کہ یہ میاں محمود نے کھیلتے کھیلتے میری جیب میں ڈال دیئے۔آپ پھینکیں نہیں۔میری جیب میں ہی ڈال دیں۔کیونکہ انہوں نے ہمیں امین سمجھ کر اپنے کھیلنے کی چیز رکھی ہے۔وہ مانگیں گے تو ہم کہاں سے دیں گے۔پھر وہ جیب میں ہی ڈال لئے۔یہ واقعہ میرے سامنے کا ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے بھی اس کو حضور کی سوانح میں لکھا ہے۔1092 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں اور محمد خان صاحب مرحوم قادیان گئے۔اور حضرت اُم المومنین بہت سخت بیمار تھیں۔مسجد مبارک کے زینے کے قریب والی کوٹھڑی میں مولوی عبد الکریم صاحب کے پاس ہم تین چار آدمی بیٹھے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا ” تار برقی کی طرح إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ۔إِنَّ كَيْدَ كُنَّ عَظِيمٌ “ گھڑی گھڑی الہام ہوتا ہے۔اور میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ جب کوئی بات جلد وقوع میں 66