سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 68
سیرت المہدی 68 حصہ چہارم میں نے ذکر کو قصد بند کر دیا۔چونکہ رات کافی گذر چکی تھی اسلئے تھوڑی دیر میں ہی نیند آگئی۔صبح بیدار ہونے پر حالت حسب معمول تھی۔اس کے بعد میں نے بار ہا اس طرح عمل کیا مگروہ کیفیت پیدا نہ ہوئی۔حضور نے سن کر فرمایا۔کہ اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ کیفیت پھر پیدا ہو۔میں نے عرض کیا کہ میری خواہش تو یہی ہے۔حضور نے فرمایا۔کس غرض سے آپ ایسا چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ اس میں ایک عالم سرور اور ایک قسم کی لذت تھی۔اس جیسی لذت میں نے کسی اور شے میں نہیں دیکھی۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ خدا کی عبادت لذت کے لئے نہیں کرنی چاہئے بلکہ حکم کی تعمیل اور اپنا فرض سمجھ کر کرنی چاہئے۔خدا چا ہے تو اس میں بھی اس سے بہتر لذت پیدا ہو سکتی ہے۔اگر لذت کو مدنظر رکھ کر عبادت کی جائے تو لذت نفس کی ایک کیفیت ہے۔اس کے حصول کے لئے عبادت نفس کے زیر اتباع ہے۔خدا کی عبادت ہر حال میں کرنی چاہئے۔خواہ لذت ہو یا نہ ہو۔وہ اس کی مرضی پر ہے۔پھر فرمایا۔یہ حالت جو آپ نے دیکھی یہ ایک سالک کے لئے راستہ کے عجائبات اور غول راہ کے طور پر ہوتے ہیں اور عارضی ہوتے ہیں۔اس کے عارضی ہونے کا اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوگا کہ آپ اس کو پھر چاہتے ہیں۔اسی طرح ذکر کرنے پر بھی وہ لذت حاصل نہ ہوئی۔ہم آپ کو ایسی بات بتاتے ہیں جس میں مستقل لذت پیدا ہوگی جو پھر جدا نہیں ہوگی۔وہ اتباع سنت اور اسوہ حسنہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے جس کی غرض خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے۔ان فانی لذتوں کے پیچھے نہ پڑو۔پھر فرمایا۔نماز خشوع وخضوع سے پڑھنی چاہئے۔منہیات سے پر ہیز ضروری ہے۔1088 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ماہ رمضان جو کہ سخت سردیوں کے ایام میں آیا۔اس کے گزارنے کے لئے دارالامان آیا۔حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی اُن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کتب خانہ کے انچارج اور مہتمم تھے اور کمرہ متصل مسجد مبارک میں کتب خانہ تھا اور وہیں حکیم صاحب کا قیام تھا۔خاکسار کے پہنچنے پر حکیم صاحب نے مجھے بھی اُسی کمرہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔خاکسار نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک گوشہ میں بستر لگالیا۔اور بہت آرام و لطف سے وقت گزرنے لگا۔حضرت صاحب ہر نماز کے لئے اسی کمرہ