سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 67 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 67

سیرت المہدی 67 حصہ چہارم آپ کھانا کھا رہے تھے۔دال ، مولیاں سر کہ اس قسم کی چیزیں تھیں۔جب آپ کھانا کھا چکے تو آپ کا پس خوردہ ہم دونوں نے اٹھالیا اور باوجودیکہ کے مجھے مسہل آور دوائیں دی ہو ئیں تھیں اور ابھی کوئی اسہال نہ آیا تھا۔میں نے وہ چیزیں روٹی سے کھالیں اور حضور نے منع نہیں فرمایا۔چند منٹ کے بعد درد کو آرام آگیا۔کچھ دیر بعد ظہر کی اذان ہوگئی۔ہم دونوں مسجد میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے آگئے۔فرضوں کا سلام پھیر کر حضور نے میری نبض دیکھ کر فرمایا۔آپ کو تو اب بالکل آرام آگیا۔میرا بخار بھی اُتر گیا تھا۔میں نے کہا حضور بخاراندر ہے۔اس پر آپ ہنس کر فرمانے لگے۔اچھا آپ اندر ہی آجائیں۔عصر کے وقت تک میں اندر رہا۔بعد عصر میں نے خود ساتھ جانے کی جرات نہ کی۔میں بالکل تندرست ہو چکا تھا۔1087 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم انبالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک کوٹھی میں مقیم تھے تو ایک امر کے متعلق جو کہ دینی معاملہ نہ تھا بلکہ ایک دوائی کے متعلق تھا۔حضور سے استفسار کی ضرورت پیش آئی۔احباب نے خاکسار کو اس کام کے لئے انتخاب کیا۔چنانچہ میں اجازت لے کر اندر حاضر ہوا۔حضور اپنے کمرہ میں صرف تنہا تشریف فرما تھے۔خاکسار نے اس امر کے جواب سے فارغ ہو کر موقعہ کو غنیمت خیال کرتے ہوئے اپنے متعلق ایک واقعہ عرض کرنے کی اجازت چاہی۔حضور نے بڑی خندہ پیشانی سے اجازت دی۔خاکسار نے عرض کیا کہ میں اس سے قبل نقش بند یہ خاندان میں بیعت ہوں اور ان کے طریقہ کے مطابق ذکر واذکار بھی کرتا ہوں۔ایک رات میں ذکر نفی اثبات میں حسب طریقہ نقشبندیہ اس طرح مشغول تھا کہ لفظ لا کو وسط سینہ سے اٹھا کر پیشانی تک لے جاتا تھا۔وہاں سے لفظ اللہ کو دائیں شانہ پر سے گزار کر دیگر اطراف سے گذارتے ہوئے لفظ الا اللہ کی ضرب قلب پر لگاتا۔کافی وقت اس عمل کو جاری رکھنے کے بعد قلب سے بجلی کی رو کی طرح ایک لذت افزا کیفیت شروع ہو کر سر سے پاؤں تک اس طرح معلوم ہوئی کہ جسم کا ذرہ ذرہ اس کے زیر اثر تھا۔آخر وہ کیفیت اس قدر بڑھی اور نا قابل برداشت معلوم ہونے لگی کہ میں نے خیال کیا۔اگر یہ کیفیت اس سے زیادہ رہی تو اغلب ہے کہ میں بے ہوش ہو کر چار پائی سے نیچے گر جاؤں۔چونکہ تنہا تھا اس لئے خیال ہوا کہ صبح اگر گھر کے لوگوں نے اس طرح گرا ہوا دیکھا تو شاید وہ کسی نشہ وغیرہ کا نتیجہ خیال کریں۔