سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 48
سیرت المہدی 48 حصہ چہارم میری عرض یہ ہے کہ باقی ماندہ صفات کو چھوڑ کر قد ر خیر و شر کو کیوں الگ طور سے لکھا جائے۔یا تو تمام صفات کو لکھا جائے یا یہ بھی نہ ہو۔تو آپ نے فرمایا۔یہ الگ طور پر نہ کھی جائے۔1051 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پردہ کے متعلق دریافت کیا۔اس وقت میں ایک کام کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔اس وقت صرف میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی تھے۔اور یہ اس مکان کا صحن تھا جو حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے رہائشی مکان کا صحن تھا۔اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے جنوبی جانب بڑے کمرے کی چھت پر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت وہاں تشریف رکھتے تھے۔حضور نے اپنی دستار کے شملہ سے مجھے ناک کے نیچے کا حصہ اور منہ چھپا کر بتایا کہ ماتھے کو ڈھانک کر اس طرح ہونا چاہئے۔گویا آنکھیں کھلی رہیں اور باقی حصہ ڈھکا ر ہے۔اس سے قبل حضرت مولانا نورالدین صاحب سے میں نے ایک دفعہ دریافت کیا تھا تو آپ نے گھونگھٹ نکال کر دکھلایا تھا۔1052 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مباحثہ آتھم میں فریقین کی تقاریر جو قلمبند ہوتی تھیں۔دونوں فریق کے کاتبان تحریر آپس میں اُن کا مقابلہ کر لیتے تھے۔کبھی اُن کے کا تب آجاتے ، کبھی میں جاتا۔ایک دفعہ میں مضمون کا مقابلہ کرانے کے لئے آتھم کے مکان پر گیا۔جا کر بیٹھا ہی تھا کہ آٹھم نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔میں نے کہا قصبہ بڑھا نہ ضلع مظفر نگر کا۔اس نے کہا ! وہاں کے منشی عبدالواحد صاحب منصف ایک میرے دوست تھے۔میں نے کہا کہ وہ میرے چا تھے۔پھر کسی جگہ کا آتھم نے ذکر کیا کہ میں وہاں کا ڈپٹی تھا اور منشی عبدالواحد صاحب بھی وہاں منصف یا تحصیلدار تھے اور میرا اُن کا بڑا تعلق تھا۔اور وہ بھی اپنے آپ کو مہم سمجھتے تھے۔تم تو میرے بھیجے ہوئے۔اور وہ اپنی مستورات کو لے آیا اور اُن سے ذکر کیا کہ یہ میرے بھتیجے ہیں۔ان کی خاطر کرنی چاہئے۔چنانچہ اُسی وقت مٹھائی وغیرہ لائی گئی۔میں نے کہا کہ میں یہ نہیں کھا سکتا۔کیونکہ ہمارے حضرت صاحب نے بعض عیسائیوں کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا اور فرمایا تھا کہ تم ہمارے آقا