سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 47 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 47

سیرت المہدی 47 حصہ چہارم یا نہیں۔یہ میں نے حضرت مولانا مولوی نور الدین خلیفتہ اسیح الاول کے ذریعہ دریافت کیا اور مغرب کے بعد عشاء تک جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف رکھا کرتے تھے۔اُس وقت دریافت کیا تھا۔اس وقت مسجد مبارک وسیع نہ ہوئی تھی۔اور اس کی شکل یہ تھی۔امام گینی اش با آدمیوں کی دو صفیں ی گنجی اش در رویوں کی دو مصنفین ۴۔عسلی خانه نشر خر چھینٹوں والد عرضی کی کڑھی اور کی مستی خیر این جواب بھی بارود سے ان کے اس نام سے امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ۲۔مسجد مبارک ۳۔یہ کوٹھڑی بھی شامل مسجد ہوگئی تھی۔دفتر ریویو۔مولوی محمد علی صاحب یہاں بیٹھا کرتے تھے۔ابتداء میں یہ نسل خانہ تھا اور گہرا تھا۔تخت بچھا کر مسجد کے برابر کر لیا تھا۔زیادہ لوگ ہوتے تو امام کے پاس بھی دو آدمی کھڑے ہو جاتے تھے۔اور مولوی محمد علی صاحب کے دفتر میں بھی چند آدمی کھڑے ہو جاتے تھے۔مگر جس وقت کا میں ذکر کرتا ہوں۔اس وقت یہ دفتر نہ بنا تھا۔اس لئے صرف نمبرا، نمبر۲، نمبر ۳ میں ہی نماز ہوتی تھی۔میں مولوی عبد الکریم صاحب کے پاس بیٹھاتھا جوامام نماز تھے اور حضرت خلیفہ مسیح اول بھی وہاں بیٹھے ہو تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقام (الف) پر بیٹھا کرتے تھے اور دریچہ (ب) میں سے ہو کر مسجد میں آتے تھے۔میرے دریافت کرنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سمجھا کہ میں تقدیر کا قائل نہیں۔اس پر لمبی تقریر فرمائی جو غالباً الحکم میں درج ہوگی۔میں نے پھر بذریعہ مولا نا صاحب عرض کیا کہ میں تقدیر کا قائل ہوں اور اللہ تعالیٰ پر مع جمیع صفات ایمان رکھتا ہوں۔اور اسے قادر وقد سیر مانتا ہوں مگر