سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 49
سیرت المہدی 49 حصہ چہارم اور مولا کی ہتک کرتے ہو تو ہم تمہاری دعوت کیسے قبول کر سکتے ہیں۔اسی وجہ سے میں بھی چائے نہیں پی سکتا۔وہ کہتا رہا کہ احمدی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بھتیجا ہونے کی وجہ سے دعوت کرتے ہیں۔اس کے بعد میں مضمون کا مقابلہ کرائے بغیر وہاں سے چلا آیا اور حضور کی خدمت میں یہ واقعہ عرض کیا۔حضور نے فرمایا! کہ آپ نے بہت اچھا کیا۔اب تمہیں وہاں جا کر مقابلہ کرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔انہیں خواہش ہو تو خود آجایا کریں۔1053 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیعت اولیٰ سے پہلے کا ذکر ہے کہ میں قادیان میں تھا۔فیض اللہ چک میں کوئی تقریب شادی یا ختنہ تھی۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مع چند خدام کے مدعو کیا گیا۔ان کے اصرار پر حضرت صاحب نے دعوت قبول فرمائی۔ہم دس بارہ آدمی حضور کے ہمراہ فیض اللہ چک گئے۔گاؤں کے قریب ہی پہنچے تھے کہ گانے بجانے کی آواز سنائی دی جو اس تقریب پر ہورہا تھا۔یہ آواز سنتے ہی حضور لوٹ پڑے۔فیض اللہ چک والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے آکر بہت التجاء کی مگر حضور نے منظور نہ فرمایا۔اور واپس ہی چلے آئے۔راستہ میں ایک گاؤں تھا مجھے اس کا نام اس وقت یاد نہیں۔وہاں ایک معزز سکھ سردار نی تھی۔اُس نے بمنت حضور کی دعوت کی۔حضور نے فرمایا۔قادیان قریب ہی ہے۔مگر اس کے اصرار پر حضور نے اس کی دعوت قبول فرمالی اور اس کے ہاں جا کر سب نے کھانا کھایا۔اور تھوڑی دیر آرام کر کے حضور قادیان واپس تشریف لے آئے۔ہمراہیان کے نام جہاں تک یاد ہے یہ ہیں۔مرزا اسماعیل صاحب شیر فروش، حافظ حامد علی، علی بخش حجام جس نے عطاری کی دکان کی ہوئی تھی۔اور بھی چند آدمی تھے۔1054 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ پٹیالہ کے بعض عیسائیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور یہ بات پیش کی کہ ہم ایک لفافے میں مضمون لکھ کر میز پر رکھ دیتے ہیں۔آپ اسے دیکھے بغیر اس کا مضمون بتادیں۔حضرت صاحب نے فرمایا! ہم بتادیں گے۔آپ وہ مضمون لکھ کر رکھیں۔اس پر انہوں نے جرات نہ کی۔اس قدر واقعہ میرا چشم دید نہیں۔البتہ اس واقعہ کے بعد حضرت صاحب نے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جو حنائی کاغذ پر تھا۔وہ اشتہار میں نے