سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 46 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 46

سیرت المہدی 46 حصہ چہارم عیسائیوں نے اجازت نہیں دی کہ اس کو چھاپا جائے۔میرے پاس امانتا رکھی ہوئی ہے۔عیسائی مذکور نے چند شرائط پر وہ حریر دینے کا اقرار کیا کہ اس کی نوکری جاتی رہے گی۔اس کا انتظام اگر ہم کریں۔پانچ سو روپیہ دیں اور اس کی دولڑکیوں کی شادی کا بندوبست کریں۔شمس الدین صاحب نے اس کا انتظام کیا۔اور پھر ہم تینوں اس کے پاس گئے تو معلوم ہوا کہ یہ راز افشاء ہو گیا ہے اور اسے عیسائیوں نے کوہاٹ یا کسی اور جگہ تبدیل کر دیا ہے۔1049 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اپنے وطن بڑھانہ ضلع مظفر نگر جارہا تھا تو انبالہ ٹیشن پر ایک بڑا پادری فیروز پور سے آرہا تھا۔جبکہ آتھم فیروز پور میں تھا۔پادری مذکور کے استقبال کے لئے بہت سے پادری موجود تھے۔وہ جب اُترا تو پادریوں نے انگریزی میں اس سے آتھم کا حال پوچھا۔اس نے کہا۔وہ تو بے ایمان ہو گیا۔نمازیں بھی پڑھتا ہے۔بابومحمد بخش صاحب ہیڈ کلرک جو احمدی تھے۔اور میرے ملنے کے لئے اسٹیشن پر آئے ہوئے تھے کیونکہ میں نے اُن کو اطلاع دے دی تھی۔انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ انہوں نے پوچھا ہے اور یہ اس نے جواب دیا ہے میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں واقعہ تحریر آنتم والا اور انبالہ سٹیشن والا عرض کیا۔آپ نے ہنس کر فر مایا کہ گواہ تو سب احمدی ہیں۔حضور کا مطلب یہ تھا کہ غیر کب اس شہادت کو مانیں گے۔شیخ محمد احمد صاحب وکیل پسر منشی ظفر احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے والد صاحب سے پوچھا کہ شمس الدین صاحب تو احمدی نہ تھے۔جس کا جواب والد صاحب نے یہ دیا کہ دراصل حضور نے اس امر کو قابل توجہ نہیں سمجھا اور درخور اعتنا خیال نہ فرمایا۔1050 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔میں ۱۹۰۱ء میں معہ اہل و عیال قادیان آگیا اور پھر مستقل رہائش اختیار کر لی۔اُن دنوں میں ایک رسالہ ابتدائی جماعت کے لئے نماز کے متعلق لکھ رہا تھا۔اُس میں میں نے ارکان نماز کا مختصر ذکر کیا تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ پانچ ارکان ایمان یعنی (۱) اللہ تعالیٰ (۲) فرشتے (۳) اللہ کی کتابیں (۴) اللہ کے رسول (۵) آخرت کے ساتھ ” قدر خیرہ و شر ہ “ کا مفہوم بھی درج کیا جائے