سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 427
سیرت المہدی 427 کے ظہور کا موجب ہوگا۔وہ کلمۃ اللہ ہے۔وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ میں اپنے ذوق اور قلبی کیفیات کے جوش میں اصل مضمون سے دور نکل گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ایک ایسی شہادت تھی جو موقعہ محل کے لحاظ سے اسی جگہ ادا کرنی میرے ذمہ تھی۔زندگی کا اعتبار نہیں۔موت کا پتہ نہیں۔حسن اتفاق اور اک فرشته رحمت و برکت سید نا قمر الانبیاء کی تحریک سے یہ موقعہ میسر آ گیا کہ سلسلہ کی وہ بعض امانتیں جو قضاء قدر نے میرے دل و دماغ کے سپرد کر رکھی تھیں ان کی ادائیگی کی توفیق رفیق ہوگئی اور نہ ایک طویل بیماری اور لمبی علالت نے میرے جسم کے رگ و پے کو اس طرح مضمحل، کمزور اور سست کر دیا ہے کہ میں ایک تو وہ خاک بن کر رہ گیا ہوں جس کی وجہ سے میں کچھ لکھنے کے قابل نہ تھا۔پس میں اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر اس جگہ صرف ایک اور کلمہ کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ خدا کے نبی اور رسول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری ہی اولا دموعود ومحمود۔بشیر و شریف اور خدا کی بشارتوں کے ماتحت یقینا یقیناً ذریت طیبہ۔مظاہر الہی اور شعائر اللہ ہیں۔ایک کو موعود بنا کر مظهر الحق والعلیٰ کا خطاب دیا تو دوسرے کو قمر الانبیاء بنا کر دنیا جہاں کی راہ نمائی کا موجب بنایا اور تیسرے کو بادشاہ کے لقب سے ملقب فرما کر عزت و عظمت اور جاہ و حشمت کے وعدے دیئے۔اَلا وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ ـ پس مقام او مبیں از راه تحقیر بدورانش رسولاں ناز کردند اگر شومئی قسمت اور شامت اعمال کسی کو ان کا ملین کی غلامی کی سعادت سے محروم رکھتی ہے۔اگر نہاں در نہاں بداعمالیاں اور معاصی کسی کو ان مقدسین پر عقیدت و نیاز مندی کے پھول نذرو نچھاور کرنے سے روکتے ہیں اور ان سے محبت و اخلاص کے لئے انشراح نہیں ہونے دیتے تو بے ادبی و گستاخی کی لعنت میں مبتلا ہونے سے تو پر ہیز کرو اور بدگمانی و بدظنی اور اعتراض وطعن کی عادت سے تو بیچو، ورنہ یاد رکھو کہ اگر اس قسم کی آگ اپنے اندر جمع کرو گے، زبان پر لاؤ گے تو آخر آگ کھائے انگار لگے“ کے مصداق بننا پڑے گا۔خدا کے غضب کی آگ اور اس کی غیرت کی نار بھڑ کے گی جس سے بچ جانا پھر آسان نہ ہوگا۔الغرض یہ سارا قافلہ آگے پیچھے حالات کے ماتحت مختلف حصوں میں تقسیم ،سات۔آٹھ اور نو بجے