سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 426
سیرت المہدی 426 نہ بن جاؤں۔اور حق بھی یہی ہے کہ مجھے یہی خطرہ بڑھا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ میں اس روحانی لذت وسرور کی صحیح تصویر دکھانے سے عاجز اور ان تاثرات کے اظہار سے عاری ہوں جو مجھے اس نماز میں نصیب ہوئے اور آج تک میں برابران اثرات کو محسوس کرتا۔ان کی مہک اور خوشبو سونگھتا اور لذت اٹھاتا چلا آ رہا ہوں۔میں حضرت ممدوح کو بچپنے سے جبکہ آپ کی عمر چھ سات برس کی تھی دیکھتا چلا آیا تھا بلکہ مجھے فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے اس مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالعُلی اور ظلِ خدا ہستی کو گودیوں کھلانے کی عزت سے ممتاز اورسعادت سے سرفراز فرمایا اور اس طرح میں نے جہاں آپ کا بچپنا دیکھا۔بچپنے کے کھیل واشغال اور عادات واطوار دیکھے وہاں الحمد للہ کہ میں نے حضور کی جوانی بھی دیکھی۔سفر میں بھی اور حضر میں بھی۔خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی اور ساتھ ہی ساتھ اس کے آپ کے اخلاق فاضلہ پاک ارادے اور عزائم استوار، آپ کے اذکار و افکار، لیل و نہار اور حال وقال بھی دیکھنے کا مجھے موقعہ ملا تھا اور ان مشاہدات کے نتیجہ میں میں اس یقین پر تھا کہ واقعی یہ انسان اپنے کاموں میں اولوالعزم اور راہ ہدایت کا شہسوار ہے مگر کل اور پھر آج جو کچھ میں نے دیکھا اور محسوس کیا اس سے میں نے اندازہ کیا کہ اس شخصیت کے متعلق میرا علم و عرفان بالکل ابتدائی بلکہ ناقص تھا، ایسا کہ میں نے اس عظیم الشان ہستی کے مقام عالی کو شناخت ہی نہ کیا تھا۔میرے علم میں ترقی ہوئی، ایمان بڑھا اور عرفان میرا بلند سے بلند ہوتا چلا گیا حتی کہ میں نے اپنی باطنی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا کہ اس صاحب شکوہ اور عظمت و دولت ہستی کو ایسی طاقتیں اور قومی ودیعت کئے گئے ہیں کہ اگر ساری دنیا اپنے پورے سامانوں کے ساتھ بھی کبھی اس کے مقابل میں کھڑی ہو کر اس کے عزائم میں حائل اور ترقی میں روک بننا چاہے گی تو مخذول و مردود ہی رہے گی اور یہ جلد جلد بڑھتا جائے گا کیونکہ خدا نے خود اس کو اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔اس میں اپنی روح ڈالی اور اس کے سر پر اپنا سایہ کیا ہے۔لہذا دنیا کے بلند و بالا پہاڑ اپنی بلند ترین اور نا قابل عبور چوٹیوں اور اتھاہ گہری غاروں کے باوجود اس کے عزائم میں حائل ہونے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی خشک و تر مواج سمند را اپنی بھیا نک اور ڈراؤنی طوفانی لہروں اور ریت کے خشک بے آب و گیاہ ویرانے اور سنسان نا قابل گز رٹیلوں کے باوجود اس کی مقدر ترقیات کو روک سکتے ہیں کیونکہ یہ ازل سے مقدر تھا کہ اس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی