سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 428 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 428

سیرت المہدی 428 قبل دو پہر تک دار الامان پہنچ کر سید نا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے باغ میں خیمہ زن ہوتا گیا جہاں قادیان کی مقدس بستی اور مضافات کے رہنے والے۔مرد۔عورت۔بچے۔بوڑھے سبھی اس غم سے نگار اور درد سے بیقرار ہو ہو کر گھروں سے نکل کر شریک حال ہورہے تھے۔میں سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رتھ کے دائیں۔بائیں اور آگے پیچھے اس مصیبت کی تکلیف اور در دورنج کو ہلکا کرنے اور بٹانے کی نیت و کوشش اور اظہار ہمدردی۔نیازمندی و عقیدت کے جذبات سے لبریز دل کے ساتھ پیدل چلا آ رہا تھا اور سیدہ طاہرہ بھی میری دلی کیفیات سے متاثر ہوکر گاہ گاہ دنیا کی ناپائیداری و بے ثباتی اور خدائے بزرگ و برتر کی بے نیازی کے تذکرے فرماتیں۔دعا میں مشغول۔خدا کی یاد اور اس کے ذکر میں مصروف چلی آ رہی تھیں۔آپ کے صبر وشکر اور ضبط و نظم کا یہ عالم تھا کہ غمزدہ خادموں اور در دمند غلاموں کو بار بار محبت بھرے لہجہ میں نصیحت فرماتیں اور تسلی دیتی تھیں۔سیدہ مقدسہ کا ایک فقرہ اور درد بھرالہجہ اپنی بعض تاثیرات کے باعث کچھ ایسا میرے دل و دماغ میں سمایا کہ وہ کبھی بھولتا ہی نہیں اور ہمیشہ دل میں چٹکیاں لیتا رہتا ہے۔جو آپ نے اسی سفر میں نہر کے پل سے آگے نکل کر جب آپ کی نظر قادیان کی عمارتوں پر پڑی اس سوز اور رقت سے فرمایا کہ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے اور سسکیاں لینے لگا۔آہ وہ فقرہ میرے اپنے لفظوں میں یہ تھا کہ ” بھائی جی چوبیس برس ہوئے جب میری سواری ایک خوش نصیب دلہن اور سہا گن کی حیثیت میں اس سڑک سے گزر کر قادیان گئی تھی اور آج یہ دن ہے کہ میں افسردہ وغمزدہ بحالت بیوگی انہی راہوں سے قادیان جارہی ہوں۔قادیان قریب اور قریب تر ہوتا جا رہا تھا۔بعض مخلص مرد اور عورتیں اخلاص وعقیدت کے پھول بطور نذرانہ لے لے کر سیدہ محترمہ کے استقبال و پیشوائی کو آتے۔اظہار ہمدردی اور تعزیت کر کے رتھ کے ساتھ ہو لیتے۔چنانچہ اس طرح آپ کی رتھ کے ساتھ مرد اور عورتوں کا ایک خاصہ ہجوم وارد قادیان ہوا۔آپ کی سواری شہر میں مغربی جانب سے داخل ہو کر ننگلی دروازہ کی راہ سے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے باغ والے مکان پر پہنچی جہاں حضرت اقدس کا جسد مبارک رکھا تھا اور کثرت سے