سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 425 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 425

سیرت المہدی 425 مخلصین تعالیٰ عنہا کے ہمرکاب تھی جو اپنی رتھ میں معہ بیگمات سوار تھیں اور چونکہ ابھی اندھیرا تھا۔لہذا چند اور خل بھی ہمرکاب تھے۔سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محموداحمد سلمہ ر بہ ہمارے موجودہ خلیفتہ اسیح بھی معہ دوسرے عزیزوں کے اجالا ہو جانے تک سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سواری کے ہمرکاب رہے۔اس قافلہ نے نماز صبح پو پھٹتے ہی اول وقت میں اس جگہ لب سڑک ادا کی جہاں اے ایل اوای ہائی سکول کی ایک گراؤنڈ واقع ہے اور بیرنگ ہائی سکول اس جگہ سے قریباً ایک فرلانگ جانب شرق آتا ہے۔امام الصلوۃ اس مختصر سے قافلہ کے سیدنا حضرت صاحبزادہ والا تبار مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربہ تھے۔سورۃ ق حضرت ممدوح نے اس نماز میں پڑھی۔یہ نماز اپنی بعض کیفیات کے لحاظ سے ان چند خاص نمازوں کے شمار میں آتی ہے جو اس سے قبل مجھے اس بارہ تیرہ سالہ قیام دارالامان میں کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کے خاص ہی فضل کے ماتحت خدا کے نبی و رسول سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اقتداء میں نصیب ہوئیں یا پھر کسی خاص ہی موقعہ پر اللہ کریم نے حضور و سرور عطا فرما کر نوازا۔سچ سچ ہماری یہ نماز صحیح معنوں میں ایک معراج تھا۔جس میں شرف حضوری بخشا گیا۔رفت وسوز کا یہ عالم تھا کہ روح پکھل کر آستانہ الوہیت پہ بہنے لگی اور دل نرم ہو کر پارہ بنا جارہا تھا۔آتش محبت میں ایسی تیزی اور حدت پیدا ہوئی کہ ماسوا اللہ کے خیالات جل کر راکھ ہو گئے اور وحدت ذاتی نے یوں اپنی چادر توحید میں لپیٹ لیا کہ ہمارا کچھ بھی باقی نہ رہا اور ہم اپنے خدا میں فنا ہو گئے۔یہ سب کچھ اس مقدس ہستی کی تقدیس اور پاک خیالات سے لبریز روحانی لہروں کا اثر تھا جو اس پاک نفس ہستی کے قلب صافی سے نکل کر اثر انداز ہو رہی تھیں اور جن سے سارے ہی مقتدین علی قدر مراتب متاثر ہو رہے تھے۔جس کو خدائے علیم وخبیر نے ایک عرصہ پہلے نور آتا ہے نور کا مصداق قرار دے کر غفلت و گناہ کے اسیروں کی رستگاری کا موجب بنا کر نوازا۔قراءت میں آپ کا درد بھرا لہجہ حن داؤدی بن کر پتھر کو موم اور نار کو گلزار بنارہا تھا۔جس کی نہ مٹنے والی لذت وسرور آج اکتیں بنتیس برس بعد بھی میں ویسے ہی محسوس کر رہا ہوں جیسے اس روز۔مجھے اس بات کا تو اندیشہ نہیں کہ نعوذ باللہ میں کسی غلو یا مبالغہ آمیزی سے کام لے کر بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہوں بلکہ اندیشہ ہے تو یہ کہ مبادا اپنی کمزوری بیان و تحریر کی وجہ سے اصل حقیقت کے اظہار سے قاصر رہ جانے کے باعث حق پوشی کا مجرم