سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 417 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 417

سیرت المہدی جاتے ہیں پر تو ہمیں نہ چھوڑ یو “ 417 سیدنا صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سلمہ ربہ ، ہمارے موجودہ امیر المومنین حضرت خلیفة المسح الثانی آنکھیں بند کئے ایک عزم مقبلا نہ لئے يَا حَيُّ يَا قَيُّومٍ۔يَا حَيُّ يَا قَيُّومٍ کہ کہ کر ہمیشہ ہمیش باقی رہنے والی ذات والا صفات سے دعاء والتجاء اور راز و نیاز میں مصروف تھے۔اور یہ تو وہ بعض الفاظ ہیں جو ہمارے کانوں میں پڑ گئے اور یاد بھی رہ گئے ورنہ خاندان کے سارے ہی اراکین بڑے بوڑھے ، بیگمات اور شہزادے شہزادیاں اپنی اپنی جگہ بڑے ہی الحاح اور عجز وانکسار سے ذکر الہی ، یاد خدا اور دعا والتجاء میں مصروف تھے۔تسبیح و تہلیل اور ذکر واذکار کی ایک گونج تھی جس سے جو بھرا معلوم دیتا اور فضا گونج رہی تھی۔ان مقدسین کے دل و دماغ میں کیا عزائم کیا ارادے یا کیا کیا پاک خیالات تھے اور ان میں سے ہر ایک اپنے خدا سے کس کس رنگ میں راز و نیاز اور قول و قرار باندھنے میں مصروف تھا۔کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا وہ خود ہی بیان کریں تو علم ہو یا پھر ان کا خدا اظہار کرے تو پتہ چلے ورنہ ہم لوگ تو ان عزائم و خیالات کی گرد کو بھی پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔لاریب ان کے چہرے ان کے عزائم اور ارادوں کے آئینہ دار تھے مگران کا پڑھنا یا سمجھنا ہرکسی کا کام نہ تھا۔خدام بھی پروانوں کی طرح اس نور الہی اور شمع ہدایت کے گرد جمع تھے اور ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں مصروف دعا الہی جبروت اور شان بے نیازی کو دیکھ رہا تھا۔حالت حضور کی اس مرحلہ پر پہنچ چکی تھی کہ خواتین مبارکہ اور صاحبزادگان والا تبار کے علاوہ خدام و غلاموں کی نظریں حضور کے چہرہ مبارک پر ہی گڑ رہی تھیں۔محترم حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور حافظ فضل احمد صاحب حالت کی نزاکت محسوس کر کے خود بخود حضرت اقدس کی چار پائی کے پاس بیٹھے سورہ یس پڑھتے رہے۔حضور کے قلب مبارک کی حرکت جو کرب کی وجہ سے پہلے تیز بھی ہلکی پڑنے لگی مگر تنفس میں سُرعت اور بے قاعدگی شروع ہوگئی اور ساتھ ہی لب ہائے مبارک کی جنبش جس سے ہم اندازہ کرتے تھے کہ حضور پر نور اس حال میں بھی ذکر الہی