سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 418
سیرت المہدی 418 میں مصروف ہیں، میں بھی وقفے ہونے لگے۔اور ہوتے ہوتے بالکل بے ساختہ اور نہایت ہی بے بسی کے عالم میں میرے مونہ سے کسی قدر اونچے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ نکل گیا کیونکہ میں نے حضور کے آخری سانس کی حرکت کو بند ہوتے محسوس کر لیا تھا اور اس کے ساتھ ہی ہر طرف سے اس مصیبت عظیمہ پر رضاء و تسلیم کے اظہار کے طور پر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کی درد بھری ندا بلند ہوگئی۔اس وقت کم و بیش پچاس ساٹھ خدام اور خاندان نبوت کے اراکین و خواتین مبارکہ حضور پرنور کے پلنگ کے گرد جمع ہوں گے۔حضور کی روح اطہر تو اس قفس عنصری سے پرواز کر کے واصل بحق ہو کر اپنے محبوب حقیقی سے جاملی اور اس طرح جلد آ پیارے ساقی اب کچھ نہیں ہے باقی دے شربت تلاقی حرص و ہوا یہی ہے اپنے مقصد اصلی کو پا کر ابدی حیات بھی راحت اور مقام رضا ومحمود پر سب سے اونچے بچھائے گئے تخت پر جا متمکن ہوئی مگر حضور کے غلام بحالت یتم بالکل اس شیر خوار بچے کی مانند بلبلاتے اور سسکیاں لیتے نہایت ہی قابل رحم حالت میں رہ گئے جو بالکل چھوٹی عمر میں مہر مادری سے محروم کر دیا گیا ہو اور نقشہ اس وقت کا اس کی کچی کیفیت کے ساتھ الہی کلام اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی“ کے بالکل مطابق تھا۔منگل کا دن ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء مطابق ۲۴ ربیع الثانی ۱۳۲۶ ہجری المقدس دس اور ساڑھے دس بجے دن کے درمیان کا وقت اس سانحہ ارتحال اور محبوب الہی کے وصال کی اطلاع آن واحد میں جہاں شہر بھر میں پھیل گئی وہاں خبر رساں ایجنسیوں، پرائیویٹ خطوط ، اخباروں اور تاروں بلکہ ریل گاڑی کے مسافروں کے ذریعہ ہندوستان کے کونہ کونہ بلکہ اکناف عالم میں بجلی کی کوند کی طرح پھیل گئی اور اس اچانک حادثہ کی وجہ سے بعض ایسے مقامات کے احمدیوں نے تو اس اطلاع کو معاندانہ پراپیگنڈا یا جھوٹ و افتراء کے خیال سے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو دور دراز اور علیحدہ تھے۔حضور پر نور کا وصال کوئی معمولی حادثہ نہ تھا بلکہ موت عالم کا ایک نقشہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بعض برگزیدہ بندے دنیا و مافیھا کو اپنے اندر لئے ہوتے ہیں اور ان کا وجود حقیقۂ سارے عالم کا مجموعہ ہوتا ہے۔مَنْ أَحْيَاهَا فَكَا نَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا