سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 416 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 416

سیرت المہدی 416 سے زیادہ واقف سمجھے گئے کچھ انہوں نے پڑھا اور آخر کار وہ دستاویز جو حضور پرنور کی آخری دستی تحریر تھی۔قبلہ حضرت پیر جی منظور محمد صاحب مصنف و موجد قاعده سیسرنا القرآن کے ہاتھ آئی اور چونکہ وہ بھی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر کے پڑھنے کا خاص ملکہ ومہارت رکھتے تھے ، انہوں نے پڑھا اور جو کچھ انہوں نے پڑھا وہ بھی اوپر درج کیا گیا ہے۔مجھے یاد تھا کہ وہ کاغذ مبارک حضرت پیر صاحب موصوف ہی کے پاس ہے چنانچہ میں اسی خیال سے ان کی خدمت میں حاضر ہوا کہ وہ کاغذ حاصل کر کے اس کا عکس اتر والوں مگر صاحب ممدوح نے بتایا کہ وہ کاغذ مبارک پانچ ماہ تک میرے پاس رہا اس کے بعد سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے منگالیا تھا۔اب انہی کے پاس ہوگا۔ڈاکٹر صاحبان نے اس مرحلہ پر ایک اور انجکشن کرنے کا فیصلہ کیا جو اسی طرح چھاتی کے بائیں جانب دل کی حرکت ظاہر کرنے والے مقام کے اوپر ہوا جس کے ساتھ گرم پانی میں ملا ہوا نمک بھی استعمال کیا گیا حضور نے بالکل اطمینان سے یہ انجکشن کرا لیا۔کوئی گھبراہٹ ، درد یا اضطراب ظاہر نہیں ہوا۔اس وقت بھی حاضرین نے ڈاکٹروں کے اس عمل کو نا پسند کیا کہ کیوں حضور کو اس حال میں تکلیف دیتے ہیں مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔اور بجائے فائدہ و آرام ہونے یا طاقت وقوت آنے کے حضور کی کمزوری بڑھتی گئی اور نقاہت غلبہ ہی پاتی گئی۔سید نا حضرت نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حسب عادت سر ڈالے ایک طرف بیٹھے دعائیں کر رہے تھے اس موقعہ پر اٹھ کر خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کی ایک تنہا کوٹھڑی میں کھٹولے پر جا بیٹھے۔حضرت پیر جی منظور محمد صاحب بھی حضرت کے پیچھے ہی پیچھے گئے اور حضرت کی طبیعت کے متعلق سوال کیا جس پر حضرت نور الدین نے جو فرمایا وہ یہ تھا کہ ایسی بیماری کے مریض کو میں نے تو بچے کبھی نہیں دیکھا“ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حالت لحظه بلحظہ زیادہ کمزور ، زیادہ نازک اور نڈھال ہوتی جا رہی تھی۔خاندان نبوت کے مرد و زن چھوٹے بڑے سبھی جمع تھے اور اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنہ کے واسطے دے دے کر دعا، تضرع اور ابتہال میں مشغول تھے۔سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے قرار ہو ہو کر پکار رہی تھیں۔اے میرے خدا! اے ہمارے پیارے اللہ ! یہ تو ہمیں چھوڑے