سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 415
سیرت المہدی 415 دیا جا تا تھا۔سورج نکل کر بلند ہو چکا تھا۔دھوپ میں شدت اور تیزی پیدا ہو چکی تھی۔قریباً 9 بجے کا وقت ہو گا کہ حضور کی بڑھتی ہوئی کمزوری اور حالت کی نزاکت کے مدنظر پوچھا گیا۔جس پر ہمارے آقاء نامدار فداہ روحی نے کچھ اشارہ کیا جسے سمجھ کر قلم دوات اور کاغذ حضرت کے حضور پیش ہوا اور حضور نے کچھ لکھنے کی کوشش کی مگر ضعف و نقاہت کا یہ عالم تھا کہ بہت تھوڑ الکھا جا سکا۔اور قلم حضور کا پھسل گیا۔حضور نے قلم اور کاغذ چھوڑ دیا۔جس کے پڑھنے کی کوشش کی گئی مگر نا کام۔آخر مگر می میر مہدی حسین صاحب کو دیا گیا کیونکہ ان کو حضرت کے دست مبارک کی تحریر کے پڑھنے کی زیادہ اور تازہ مشق تھی۔چنانچہ میر صاحب محترم نے جو کچھ پڑھا وہ یہ تھا۔تکلیف یہ ہے کہ آواز نہیں نکلتی۔دوائی پلائی جائے۔“ اور وہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات پر اس طرح یقین ہے جس طرح آیات قرآنی پر۔کہ بالکل یہی الفاظ حضور نے تحریر فرمائے تھے مگر انجام کار چونکہ میری یاد میں اس کاغذ کا محترم حضرت پیر جی منظور محمد صاحب کے پاس پہنچنا تھا لہذا میں اس مرحلہ پر صاحب ممدوح کی خدمت میں حاضر ہوا تا اس مقدس دستاویز کے متعلق معلوم کروں۔تو حضرت پیر صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ یہ تھا کہ تکلیف یہ ہے کہ آواز نہیں نکلتی حلق بزرگوں کا اتفاق ہے علاج کیا جائے۔پہلا حصہ جس پر دونوں تکلیف یہ ہے کہ آواز نہیں نکلتی۔بہر حال مسلّم ہے اور مجھے بھی پوری طرح سے یہی یاد ہے۔اگلے حصہ کے متعلق میری یاد یہی تھی کہ وہ قیاسی تھا۔ایک حنائی رنگ کے کاغذ پر حضور نے حسب عادت اسے تہ کر کے صرف دو چھوٹی چھوٹی سطر میں لکھیں۔یہ کاغذ حضرت کے ہاتھ سے ڈاکٹر نور محمد صاحب نے لیا اور وہی اس حالت میں سب سے پیش پیش تھے اور انہی کے بار بار کے تقاضا و اصرار پر حضرت نے کاغذ پر کچھ لکھا تھا۔پہلے خود ڈاکٹر صاحب نے پڑھنے کی کوشش کی۔ان سے اور وں نے لیا اور پڑھنے کی کوشش کی مگر جب دیکھا کہ کسی سے بھی پوری تحریر حضور کی پڑھی نہیں گئی تو مکرمی میر مہدی حسین صاحب کو دے کر پڑھوانے کی کوشش کی کیونکہ وہ حضرت کی طرز تحریر