سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 414
سیرت المہدی 414 کے نازیبا اور بے صبری کے الفاظ میں سے قطعا قطعا نہ صرف یہ کہ کوئی ایک لفظ بھی نہ سنا بلکہ کوئی ایسی خفیف سی حرکت بھی میں نے دیکھی، نہ محسوس کی۔اور جو کچھ دیکھا، سنا ، یا محسوس کیا وہ سرتا پا نور اور کلیۂ نور علی نور، روح پرور ، ایمان افزا اور سبق آموز ہی تھا۔شدت کرب اور انتہائی تکلیف کے اوقات میں بھی حضور متواتر مسلسل اور بلا وقفہ ذکر الہی اور یاد خدا میں رطب اللسان تھے اور نہایت ہی صبر کے ساتھ تسبیحی کلمات شکر بجا لاتے ہوئے ان تکالیف کو برداشت کرتے رہے۔جزع فزع یا بے حوصلگی و گھبراہٹ کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی میں نے نہ دیکھی بلکہ پورے وقار اور رضا کا مقام حضور کو میسر تھا۔وہ نور نبوت اور روحانی چمک جو شدت امراض یا مشکلات کے گھٹا ٹوپ اوقات میں بھی حضور کے چہرہ انور پر موجود رہا کرتی تھی اور جس کو میں نے حضور کی جبینِ مبارک سے کبھی جدا ہوتے نہ دیکھا تھا۔آج بھی برا بر حضور کے رخسار اور جبین مبارک پر قائم وسلامت نظر آ رہی تھی اور حضور کی روشن و درخشاں پیشانی پر کسی بل یا شکن کا کوئی اثر بھی نہ تھا۔حضور کو علم تھا کہ خدائی وعدوں اور الہی وحیوں کے پورا ہونے کے سامان ہورہے ہیں مگر باوجود اس کے نہ صرف یہ کہ حضور کو بے چینی و بیقراری یا اضطراب نہ تھا بلکہ حضور کو ایک اطمینان وسکون حاصل تھا۔حضور کا دل وصال کی لذت میں اور زبان ذکر کے ترانوں میں مشغول یہی کہہ رہی تھی۔”اے میرے خدا! اے میرے پیارے اللہ اور اے میرے پیارے اور پیارے کے پیارے خدا! سبحان الله ، الحمد لله ، یا حتی یا قیوم“ یہی ذکر تھا اور یہی ورد جس کی لذت وسرور میں حضور پر بیماری کی تکالیف اور اضطراب و کرب بیچ اور بے اثر تھے اور اگر چہ بتقاضائے بشریت حضور کے اعضاء طبعی اور اضطراری حرکات کر رہے تھے مگر حضور کا دل اپنے آقا کی یاد میں محو و مطمئن اور روح اس کے وصال کے لئے پرواز شوق میں مصروف تھی۔حضور کے چہرہ مبارک پر اطمینان اور سکون کے ساتھ انوار الہیہ کے آثار نمایاں تھے۔خاندان نبوت کے علاوہ اور بھی بہت سے دوست حضور کی علالت کی خبر پا کر جمع ہو رہے تھے۔چار پائی کے گرد ایک ہجوم حلقہ باندھے کھڑا دعاؤں میں مصروف قدرت الہی اور بے نیازی کا رنگ دیکھ رہا تھا۔اس بڑھتے ہوئے ہجوم کو انتظام و ترتیب میں لا کر سبھی خدام کو خدمت وقربت کا موقعہ بہم پہنچانے کی غرض سے پہرہ کا انتظام کیا گیا۔اور باری باری چند چند دوستوں کو موقعہ زیارت اور شرف خدمت