سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 413 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 413

سیرت المہدی 413 موجودہ خلیفہ لمسیح الثانی ، قبلہ حضرت نانا جان، قبلہ حضرت نواب صاحب اور شہزادے سبھی حضور کے گرد مختلف رنگ میں خدمات بجالاتے ، خدا سے دعائیں کرتے اور گڑ گڑاتے ہی نظر آتے تھے۔سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد حضور پر ٹور کے دہن مبارک میں گلاب کیوڑہ یا شہد وغیرہ ڈالتے اور کہتے اے خدا میری عمر بھی ان کو دے دے، ان کو مدتوں تک زندہ سلامت رکھتا تیرے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں۔یہ اور اسی قسم کی مختلف دعا ئیں سیدہ طاہرہ يَا حَيُّ يَا قَيُّوم کے نام کے واسطہ سے ایسے دردناک اور پر سوز لہجہ میں کرتی تھیں جن کے اثر سے کلیجہ پھٹا جا تا تھا۔اور بات برداشت سے باہر ہوئی جارہی تھی۔حضرات صاحبزادگان والا تبار بھی اپنی جگہ اپنے رنج وغم اور در دوالم پر قابو پائے ، ضبط کئے ، بحالت کظم یا دالہی اور دعاؤں میں مصروف تھے اور ایسا معلوم دیتا تھا کہ ان کی نظریں اس دنیا سے نکل کر کسی دوسرے عالم کی طرف اٹھ رہی ہیں اور ان کے عزائم کسی پروگرام کی تیاری میں مصروف اور وہ اپنے خدا سے کوئی نئے عہد و پیماں باندھ رہے ہیں۔دور کہیں صبح کی اذان ہوئی جس کی بالکل دھیمی سی آواز ہمارے کانوں نے محسوس کی اور ساتھ ہی سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے باوجود انتہائی کمزوری وضعف اور باوجود شدت کرب خود دریافت فرمایا: کیا صبح ہوگئی یا اذان ہوگئی ؟" میں نے عرض کیا۔حضور اذان ہوگئی۔جس پر حضور پُر نور نے تمیم کی غرض سے ہاتھ بڑھائے۔کوئی صاحب مٹی کی تلاش میں نکلے مگر حضور نے بستر کے کپڑے ہی پر ہاتھ مارکر تیم کیا اور پھر کافی دیر تک نماز ہی میں مصروف رہے۔اگر چہ جس وقت سے حضور بیمار ہوئے اور میں حاضر خدمت ہوا۔میرے کان آشنا ہیں۔میرا دماغ محفوظ رکھتا ہے اور دل اس بات کے اظہار میں بے حد لذت محسوس کرتا ہے کہ بیماری کی تکلیف اور سختی کے اوقات میں بھی حضور کی زبان مبارک سے میں نے ”ہائے۔وائے۔میں مر گیا۔یہ ہو گیا وہ ہو گیا“