سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 412
سیرت المہدی 412 بڑھی کہ ڈاکٹر اور طبیب خود بھی گھبرا گئے۔دوبارہ ایک پرکاری حضور کے اسی پہلو میں اور کی گئی۔ان پچکاریوں سے حضور کو درد محسوس ہوا جس کی وجہ سے حضرت نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش بھی فرمائی۔باوجود اس کے اس مرتبہ بھی پچکاری کر ہی دی گئی۔مجھے حضرت کی تکلیف سے سخت تکلیف ہوئی اور ڈاکٹر صاحب کی جرأت پر تعجب کہ کس دل سے انہوں نے حضرت کے جسم مبارک میں اتنا لمبا سوالگایا ، خطرہ بجائے کم ہونے کے بڑھتا گیا جس کی وجہ سے حضور کی چار پائی صحن میں سے اٹھوا کر دالان میں شرقاً غرباً چھت کے نیچے بچھائی گئی اور خاندان کے اراکین کو بلوایا گیا۔صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربہ، ہمارے موجودہ خلیفتہ المسیح الثانی کے اہل بیت حرم اول رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس شب اپنے والد بزرگوار حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آبائی مکان واقعہ پتھراں والی حویلی میں تشریف فرما، ان کو وہاں سے خود حضرت صاحبزادہ صاحب والا تبار جا کر لے آئے اور حضرت نواب صاحب قبلہ کو ان کی کوٹھی سے راتوں رات بلوالیا گیا۔نیند رات بھر حضرت کو بالکل نہ آئی البتہ انتہائی ضعف اور کمزوری کے باعث کبھی کبھی خاموش اور بالکل بے حس و حرکت پڑے رہتے تھے۔نبض ڈھونڈے سے نہ ملتی تھی حتی کہ ایک مرتبہ تو یہی سمجھا گیا کہ حضور کا وصال ہو گیا جس کی وجہ سے سب پر سکتہ چھا گیا مگر وقفہ سے پھر کسی قدر حرکت اور اضطراب وگھبراہٹ ہونے لگی۔سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نہ صرف یہ کہ رات بھر آنکھوں میں کائی بلکہ حضرت کی خدمت اور دوائی درمن کے علاوہ بار بار نہایت ہی اضطراب اور بیقراری میں خدا کے حضور گر گر کر عاجزی و تضرع سجدات میں بھی اور بیٹھے ، کھڑے یا چلتے پھرتے بھی دعاؤں اور التجاؤں ہی میں گزاری۔جزع فزع یا شکوہ شکایت کی بجائے ہمت و استقلال اور تحمل و وقار ہمرکاب اور شامل حال نظر آتا تھا۔اور نہ صرف خود سنبھلتے بلکہ اوروں کو بھی سنبھالتے تھے اور خاندان کی بیگمات، معصوم شہزادیوں اور بچوں کو پیار کرتے اور تسلیاں دیتے تھے۔خاندان کے تمام اراکین حضور کی چار پائی کے سرہانے کی طرف کھڑے دعاؤں میں لگے ہوئے تھے۔سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربه ☆ انجیکشن -