سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 409 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 409

سیرت المہدی 409 (۳) پھر اسی روز یعنی مورخہ ۲ مئی ۶۸ کو بعد نماز عصر شہزادہ محمد ابراہیم خان صاحب کی ملاقات کے وقت تقریر فرمائی جو احکم ۱۴ مئی شعہ کے قریباً چودہ کالموں میں شائع ہوئی تھی۔فرمایا ”ہم نے اپنی زندگی میں کوئی کام دنیوی نہیں رکھا۔ہم قادیان میں ہوں یالا ہور میں۔جہاں ہوں ہمارے انفاس اللہ ہی کی راہ میں ہیں۔معقولی رنگ میں اور منقولی طور سے تو اب ہم اپنے کام کو ختم کر چکے ہیں۔کوئی پہلو ایسا نہیں رہ گیا جس کو ہم نے پورا نہ کیا ہو۔البتہ اب تو ہماری طرف سے دعا ئیں باقی ہیں۔(۴) مورخہ ۷ ارمئی شعہ کو گیارہ بجے قبل دو پہر سے ایک ڈیڑھ بجے بعد دو پہر تک حضور نے ایک تقریر رؤسا وعمائد لا ہور و مضافات کے سامنے فرمائی جو بڑے سائز کے ۳۶ کالموں میں چھپی۔اور یہ وہ تقریر ہے جس کا نام ہی تكميل التبليغ و اتمام الحجّة اور نام ہی سے تقریر کا خلاصہ مطلب عیاں (الحکم ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ نمبرا کالم نمبر۲) ہے۔(۵) پھر ۱۹ مئی ۸عہ کو عبد الحکیم کی کتاب کا ذکر تھا کہ اس نے بہت سے اعتراض کئے ہیں۔فرمایا: ”ہم نے جو کچھ کہنا تھا کہ چکے۔بخشیں ہو چکیں۔کتابیں مفصل لکھی جاچکی ہیں۔اب بحث میں پڑنا فضولیوں میں داخل ہے۔“ ( بدر ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ کالم نمبر ۲) ان کے علاوہ اور بھی بعض تقاریر میں زبانی طور سے یاد پڑتا ہے کہ حضور نے بڑے زور دار الفاظ میں اس امر کا اعلان فرمایا کہ ”ہم تو اپنا کام کر چکے۔اب خدا اپنا ہاتھ دکھائے گا۔“ ممکن ہے کہ تفصیلی محنت سے ایسے اور حوالے بھی مل جائیں یا بعض احباب کی یاد داشت میری تصدیق کر دے۔میں اس وقت زیادہ محنت کے قابل نہیں۔نماز عصر ہوئی اور حضور پر نور سیر کے واسطے تشریف لے آئے۔یہ سیر وہی سیر تھی جس کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں۔آخری دن کی خاموش اور پُر معنی سیر۔جس کی وجہ سے طرح طرح کے خیالات پیدا ہوتے رہے۔مگر باقی معاملات بالکل نارمل اور اپنے معمول پر تھے۔مکان پر رات کو با قاعدہ پہرہ ہوا کرتا اور ہم لوگ باری سے اس خدمت کو بجالاتے تھے۔ڈیوٹی والے پہرہ پر اور باقی اپنی جگہ آرام اور سیر وتفریح میں تھے۔کوئی غیر معمولی امر در پیش نہ تھا۔اچانک گیارہ بجے مکرم حافظ حامد علی مرحوم نے مجھے جگایا۔میں سمجھا