سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 410
سیرت المہدی 410 میرے پہرے کا وقت آ گیا۔پوچھا۔کیا ایک بج گیا ہے؟ حافظ صاحب مرحوم نے دھیمی سی آواز میں جواب دیا۔ایک تو نہیں بجا۔حضرت صاحب بیمار ہیں، تمہیں یاد فرمایا ہے۔حضور کی بیماری کی خبر سے میں چونکا، ہوشیار ہوا۔نیند کے غلبہ کی غفلت اڑ گئی۔سیڑھی، ورانڈہ اور دالان کے چار ہی قدم کر کے فوراً حضرت کے حضور حاضر ہوا۔سلام عرض کیا ، جواب پایا اور حضور کے پاؤں کی طرف فرش پر بیٹھ کر دبانے لگا۔کیونکہ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت کے سرہانے چار پائی کے کونے پر بیٹھی تھیں۔حضور نے چار پائی پر بیٹھ کر زور سے دبانے کا ارشاد فرمایا جس کی تعمیل میں پائنتی کی طرف چار پائی کے او پر بیٹھ کر اپنی پوری طاقت اور سارے زور کے ساتھ پاؤں، پنڈلیاں ، ران، کمر اور پسلیوں کو دباتا رہا۔حضور پر نور اس وقت ایک چار پائی پر مکان کے بالائی حصہ کے صحن میں شرقا غر با لیٹے ہوئے تھے۔سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور کے سرہانے اسی چار پائی کے شمال غربی کو نہ پر تشریف فرما تھیں اور حضرت مولانا نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ چار پائی کے شمالی جانب ایک کرسی پر حسب عادت خاموش سر ڈالے بیٹھے تھے۔حضور کا جسد اطہر ٹھنڈا، کمزور اور آواز بالکل دھیمی تھی۔کیونکہ حضور پر نور کو میرے پہنچنے سے پیشتر ایک بڑا اسہال ہو چکا تھا۔مجھ پر اس وقت یہی اثر تھا کہ حضرت اقدس کو اُسی پرانی بیماری اسہال اور برد اطراف کا دورہ لاحق ہے جو اکثر دماغی کام میں انہماک اور شبانہ روز کی محنت کے نتیجہ میں ہو جایا کرتا تھا اور چونکہ ایسی تکلیف میں اکثر مجھے خدمت کی عزت نصیب ہوتی رہتی تھی جس کے بارہا میسر آنے کی وجہ سے مجھے حضرت کے جسم مبارک کی حالت کا اندازہ اور خدمت کے متعلق مزاج شناسی اور تجربہ حاصل تھا۔چنانچہ اسی مشاہدہ ، تجربہ اور احساس کی بنا پر میں اس یقین اور بصیرت پر ہوں کہ حضور پر متواتر و مسلسل سخت دماغی محنت اور دن رات کی مصروفیت کے باعث اسی پرانی بیماری و عارضہ کا حملہ ہوا تھا جو اس سے قبل بارہا حضور کی زندگی میں ہوا کرتا تھا اور یہی علامات ان تکالیف میں بھی نمایاں ہوا کرتی تھیں جو بعض اوقات کئی کئی مضبوط اور قوی غلاموں کی گھنٹوں کی محنت، کوشش اور خدمت سے، جو دبانے اور مالش چاپی وغیرہ کے ذریعہ کی جایا کرتی تھی ، بصد مشکل زائل ہوا کرتی تھیں۔حضور کا جسم مبارک برف کی طرح ٹھنڈا ہو جانے کے بعد گرم ہوا کرتا تھا۔نبض کی حرکت بحال ہوا کرتی تھی۔