سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 408
سیرت المہدی 408 محمد حسین صاحب قریشی کارکنان نولکشور پریس کو دے کر پروف کے واسطے تاکید کر آئے۔دوسرے دن پروف لینے گئے مگر منتظمین نے کسی خورد سال بچہ کی موت کا عذر کر کے اگلے دن کا وعدہ کیا۔ادھر دوسری کا پی تیار تھی مگر وہ پریس کو نہ دی گئی اس خیال سے کہ پہلا پروف آجائے تو دوسری کا پی دی جائے گی۔۲۵ مئی ۸عہ وعصر کے وقت اندر سے دادی آئیں اور میر مہدی حسین صاحب کو مخاطب کر کے بآواز بلند کہا حضرت صاحب فرماتے ہیں آج ہم تو اپنا کام ختم کر چکے۔‘ مکرمہ دادی صاحبہ والدہ مکرمی میاں شادی خان صاحب مرحوم نے جس خوشی اور بشاشت سے یہ خبر آ کے سنائی وہ تو اس تصنیف کے اتمام سے متعلق تھی اور بالکل ایسی ہی تھی جیسے کسی اہم کام کے سرانجام پہنچنے پر ہوا کرتی ہے مگر یہ الفاظ سنے والوں میں سے بعض کا ماتھا ٹھنکا اور ان کے ذہن کسی دوسری طرف منتقل ہو گئے خصوصاً مکرمی میر مہدی حسین صاحب نے تو اس کو بے حد محسوس کیا۔چنانچہ حضور پرنور کے وصال کے بعد ہمیشہ وہ اس فقرہ کو دہرایا کرتے اور اپنے تاثر کا ذکر کیا کرتے ہیں۔اس موقعہ پر میں حضور کے بعض وہ فقرات جو حضور نے اس سفر کی تقریروں میں اپنے کام کے پورا کر چکنے اور تکمیل تبلیغ سے متعلق فرمائے۔مختصر درج کر دیتا ہوں تاد نیا کو معلوم ہو کہ خدا کا یہ برگزیدہ نبی اپنا کام پورا کر چکنے کے بعد ہی واپس بلایا گیا تھا۔(۱) چنانچہ مورخہ ۳۰ /۱ اپریل شعبہ کی تقریر میں فرماتے ہیں ”جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو فیصلہ کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ہمیں چھبیس سال ہوئے تبلیغ کرتے۔جہاں تک ممکن تھا ہم ساری تبلیغ کر چکے ہیں۔اب وہ خود ہی کوئی ہاتھ دکھائے اور فیصلہ کرے گا۔(الک ۲۶، ۳۰ راگست ۱۹۰۸ء) (۲) پھر ۲ مئی شعبہ مسٹر محمدعلی جعفری ایم۔اے وائس پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور کو مخاطب کر کے ایک لمبی تقریر فرمائی جو اخبار الحکام ۰۸-۰۶-۱۸ کے بڑے سائز کے نو کالموں میں درج ہے۔فرمایا ”ہمارا کام صرف بات کا پہنچادینا ہے۔ماعلى الرسول الا البلاغ۔تصرف خدا کا کام ہے۔ہم اپنی طرف سے بات کو پہنچادینا چاہتے ہیں ایسا نہ ہو کہ ہم پوچھے جاویں کہ کیوں اچھی طرح نہیں بتایا۔اسی واسطے ہم نے زبانی بھی لوگوں کو سنایا ہے۔تحریری بھی اس کام کو پورا کر دیا ہے۔دنیا میں کوئی کم ہی ہوگا جو اب بھی یہ کہہ دے کہ اُس کو ہماری تبلیغ نہیں پہنچی یا ہمارا دعوی اس تک نہیں پہنچا۔(الحکم ۰۸-۰۶-۱۸)