سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 33 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 33

سیرت المہدی 33 33 حصہ چہارم کر کے واپس آگئے۔کیونکہ یہ تینوں ملازم تھے۔میں پندرہ بیس روز لدھیانہ ٹھہرا رہا اور بہت سے لوگ بیعت کرتے رہے۔حضور تنہائی میں بیعت لیتے تھے اور کواڑ بھی قدرے بند ہوتے تھے۔بیعت کرتے وقت جسم پر ایک لرزہ اور رقت طاری ہو جاتی تھی۔اور دعا اور بیعت بہت لمبی فرماتے تھے۔اس لئے ایک دن میں ہیں پچپیس آدمی کے قریب بیعت ہوتے تھے۔1026 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیعت کے بعد جب میں لدھیانہ میں ٹھہرا ہوا تھا تو ایک صوفی طبع شخص نے چند سوالات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ آیا آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کرا سکتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اس کے لئے مناسبت شرط ہے اور میری طرف منہ کر کے فرمایا کہ یا جس پر خدا کا فضل ہو جائے۔اسی رات میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔1027 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ میرے دو تین خواب ازالہ اوہام کی جلد کے ساتھ جو کورے کاغذ تھے۔اُن پر اپنی قلم سے درج فرمائے۔اسی طرح الہی بخش اکو نٹنٹ نے جب حضرت صاحب کے خلاف کچھ خواب شائع کئے تو حضور نے مجھے لکھا کہ اپنے خواب لکھ کر بھیجو۔میں نے بھیج دیئے۔حضور نے وہ خواب اشتہار میں چھپوا دیے۔خواب سے پیشتر میں نے یہ شعر بھی لکھا تھا۔الا اے بلبل نالاں چہ چندین ماجرا داری بیا داغے که من در سینه دارم تو کجا داری عسل مصفی میں وہ اشتہار اور خواب چھپے ہوئے موجود ہیں۔1028 بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ منشی اروڑ ا صاحب مرحوم اور میں نے لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ کبھی حضور کپورتھلہ بھی تشریف لائیں۔اُن دنوں کپورتھلہ میں ریل نہ آئی تھی۔حضور نے وعدہ فرمایا کہ ہم