سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 32
سیرت المہدی 32 32 حصہ چہارم عیسی کے قائل تھے۔چنانچہ میں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو خط لکھا کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کہاں سے ثابت ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح خضر علیہ السلام کی حیات ضعیف احادیث سے ثابت ہے اور ضعیف احادیث کا مجموعہ اقسام حدیث میں سے حدیث حسن کو پہنچتا ہے۔میں نے جواب دیا کہ موضوع احادیث کا مجموعہ ضعیف ہوا اور ضعیف احادیث کا مجموعہ حسن۔پس کوئی حدیث موضوع نہ رہے گی۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم اہل ھوئی کا جواب نہیں دیا کرتے۔لیکن چونکہ تمہارا تعلق مرزا صاحب سے ہے۔اس لئے جواب لکھتا ہوں اور مرزا صاحب وہ ہیں کہ معقولی باتیں پیش کرتے ہیں اور پھر قرآن سے دکھا دیتے ہیں اور ان کا دعوی مجددیت قریب به اذعان ہے ( یہ مولوی رشید احمد صاحب کے الفاظ ہیں) قرآن پر جو کوئی اعتراض کرتا ہے۔مرزا صاحب معقولی جواب اس کا دیتے ہیں اور قرآن سے نکال کر وہی دکھا دیتے ہیں۔مراد اس ذکر سے یہ ہے کہ رشید احمد صاحب گنگوہی حضرت صاحب کو مجدد ہونے والا اپنے اندازے میں سمجھتے تھے۔وہ خطوط رشید احمد صاحب کے مجھ سے مولوی اشرف علی نے ، جو رشید احمد صاحب کا مرید تھا اور سلطان پور ریاست کپورتھلہ میں رہتا تھا، لے کر دبالئے اور پھر باوجود مطالبہ کے نہ دیئے۔1025 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سبز کاغذ پر جب اشتہار حضور نے جاری کیا تو میرے پاس بھی چھ سات اشتہار حضور نے بھیجے۔منشی اروڑا صاحب فور الدھیانہ کو روانہ ہو گئے۔دوسرے دن محمد خاں صاحب اور میں گئے اور بیعت کر لی۔منشی عبدالرحمن صاحب تیسرے دن پہنچے۔کیونکہ انہوں نے استخارہ کیا اور آواز آئی ”عبد الرحمن آجا‘ ہم سے پہلے آٹھ نوکس بیعت کر چکے تھے۔بیعت حضورا کیلے اکیلے کو بٹھا کر لیتے تھے۔اشتہار پہنچنے کے دوسرے دن چل کر تیسرے دن صبح ہم نے بیعت کی۔پہلے منشی اروڑا صاحب نے ، پھر میں نے۔میں جب بیعت کرنے لگا تو حضور نے فرمایا۔تمہارے رفیق کہاں ہیں؟ میں نے عرض کی منشی اروڑ ا صاحب نے تو بیعت کر لی ہے اور محمد خاں صاحب تیار ہی ہیں کہ بیعت کر لیں۔چنانچہ محمد خاں صاحب نے بیعت کر لی۔اس کے ایک دن بعد منشی عبدالرحمن صاحب نے بیعت کی۔منشی عبد الرحمن صاحب ہمنشی اروڑ ا صاحب اور محمد خاں صاحب تو بیعت