سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 34 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 34

سیرت المہدی 34 حصہ چہارم ضرور کبھی آئیں گے۔اس کے بعد جلد ہی حضور بغیر اطلاع دیئے ایک دن کپورتھلہ تشریف لے آئے۔اور یکہ خانہ سے اتر کر مسجد فتح والی نزدیکہ خانہ واقع کپورتھلہ میں تشریف لے گئے۔حافظ حامد علی صاحب ساتھ تھے۔مسجد سے حضور نے ملاں کو بھیجا کہ منشی صاحب یا منشی ظفر احمد صاحب کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دو۔میں اور منشی اروڑ ا صاحب کچہری میں تھے کہ ملاں نے آکر اطلاع دی کہ مرز اصاحب مسجد میں تشریف فرما ہیں۔اور انہوں نے مجھے بھیجا ہے کہ اطلاع کر دو۔منشی اروڑ ا صاحب نے بڑی تعجب آمیز ناراضگی کے لہجے میں پنجابی میں کہا دیکھوناں تیری مسیت وچ آ کے مرزا صاحب نے ٹھہر ناسی؟“۔میں نے کہا کہ چل کر دیکھنا تو چاہئے۔پھر منشی صاحب جلدی سے صافہ باندھ کر میرے ساتھ چل پڑے۔مسجد میں جا کر دیکھا کہ حضور فرش پر لیٹے ہوئے تھے اور حافظ حامد علی صاحب پاؤں دبا ر ہے تھے اور پاس ایک پیالہ اور چمچہ رکھا ہوا تھا۔جس سے معلوم ہوا کہ شاید آپ نے دودھ ڈبل روٹی کھائی تھی۔منشی اروڑ ا صاحب نے عرض کیا کہ حضور نے اس طرح تشریف لانی تھی؟ ہمیں اطلاع فرماتے۔ہم کرتار پورٹیشن پر حاضر ہوتے۔حضور نے جواب دیا۔اطلاع دینے کی کیا ضرورت تھی۔ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا وہ پورا کرنا تھا۔پھر حضور کو ہم اپنے ہمراہ لے آئے۔اور محلہ قائم پورہ کپورتھلہ میں جس مکان میں پرانا ڈاکخانہ بعد میں رہا ہے ، وہاں حضور کو ٹھہرایا۔وہاں بہت سے لوگ حضور کے پاس جمع ہو گئے۔کرنیل محمد علی خاں صاحب، مولوی غلام محمد صاحب وغیرہ۔حضور تقریر فرماتے رہے۔کچھ تصوف کے رنگ میں کرنیل صاحب نے سوال کیا تھا جس کے جواب میں یہ تقریر تھی۔حاضرین بہت متاثر ہوئے۔مولوی غلام محمد صاحب جو کپورتھلہ کے علماء میں سے تھے آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے ہاتھ بڑھائے کہ میری آپ بیعت لے لیں۔مگر حضور نے بیعت لینے سے انکار کر دیا۔بعد میں مولوی مذکور سخت مخالف رہا۔1029 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ سے کپورتھلہ تشریف لائے تو صرف ایک دن قیام فرما کر قادیان کو تشریف لے گئے۔ہم کرتار پور کے اسٹیشن پر پہنچانے گئے۔یعنی منشی اروڑا صاحب، محمد خاں صاحب اور میں۔اگر کوئی اور بھی ساتھ کرتار پور گیا ہو تو مجھے یاد نہیں۔