سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 388 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 388

سیرت المہدی 388 ابھی نئی نئی لاہور میں آئی تھی۔اسی سفر کے دوران میں شاہزادگان والا تبار میں سے کسی صاحبزادہ نے حضرت سے بائیسکل خرید دینے کی خواہش کی۔حضرت شاہزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ رتبہ اس وقت اپنی گھوڑی پر سوار ہمرکاب تھے، پاس سے کوئی سائیکل سوار نکلتے دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ سائیکل کی سواری گھوڑے کے مقابل میں تو ایک کتے کی سواری نظر آتی ہے۔اس واقعہ کے وقت حضور کی گاڑی اسلامیہ کالج (موجودہ) کے جنوبی جانب کی سڑک پر سے ہو کر سیر کو جا رہی تھی جس پر آجکل مغرب کو جا کر کچھ دور امرت دھارا بلڈنگ اور سبزی منڈی واقع ہیں۔ایام قیام لاہور میں حضور کو بہت ہی مصروفیت رہا کرتی تھی۔کیونکہ حضور کے لاہور پہنچتے ہی سارے شہر میں ہلچل مچ گئی اور ایک شور بپا ہو گیا۔جس کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ اس کثرت سے آتے رہتے تھے کہ خلق خدا کا تانتا بندھا رہتا اور رجوع کا یہ عالم تھا کہ باوجود مخالفانہ کوششوں اور سخت روکوں کے لوگ جوق در جوق لوہے کی طرح اس مقناطیس کی طرف کھنچے چلے آتے۔مولویوں کے فتووں کی پرواہ کرتے نہ ان کی دھمکیوں سے ڈرتے۔اپنے بھی آتے اور بیگانے بھی۔دوست بھی اور دشمن بھی۔موافق بھی اور مخالف بھی۔محبت سے بھی اور عداوت سے بھی۔علماء بھی آتے اور امراء بھی۔الغرض عوام اور خواص، عالم اور فاضل ، گریجوایٹ اور فلاسفر ، ہر طبقہ اور ہر رتبہ کے لوگ جمع ہوتے اپنے علم و مذاق کے مطابق سوالات کرتے اور جواب پاتے تھے۔اس اقبال اور رجوع خلق کو دیکھ کر مولوی لوگوں کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے۔وہ اس منظر کو برداشت نہ کر سکے اور آپے سے باہر ہو گئے۔انہوں نے بالمقابل ایک اڈا قائم کیا جہاں ہر روز مخالفانہ تقریریں کرتے۔گالی گلوچ اور سب وشتم کا بازار گرم رکھتے۔افتراء پردازی اور بہتان طرازی کے ایسے شرمناک مظاہرے کرتے کہ انسانیت ان کی ایسی کرتوتوں پر سر پیٹتی اور اخلاق و شرافت کا جنازہ اٹھ جاتا۔توہین و دل آزاری اتنی کرتے کہ قوت برداشت اس کی متحمل نہ ہوسکتی۔مجبور ہوکر ، تنگ آ کر بعض دوستوں نے حضرت کے حضور اپنے درد کا اظہار کیا تو حضور نے یہی نصیحت فرمائی کہ