سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 389 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 389

سیرت المہدی 389 گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو صبر کرو اور ان کی گالیوں کی پرواہ نہ کیا کرو۔برتن میں جو کچھ ہوتا ہے وہی نکلتا ہے۔دراصل ان کو سمجھ نہیں کیونکہ اس طرح تو وہ آپ ہماری فتح اور اپنی شکست کا ثبوت بہم پہنچاتے ہماری صداقت اور اپنے بطلان پر مہر تصدیق لگاتے ہیں۔منہ پھیر کر ، کان لپیٹ کر نکل آیا کرو۔کہتے ہیں ”صبر گر چہ تلخ است لکن بر شیر میں دارد صبر کا اجر ہے حضور پر نور کی یہ نصیحت کارگر ہوئی۔غلاموں نے کانوں میں روئی ڈال کر پلیجوں پر پتھر باندھ کر یہ سب وشتم سنا اور برداشت کیا۔اُف تک نہ کی اور اپنے آقا نامدار کی تعلیم پر ایسی طرح عمل کر کے دکھایا کہ جس کی مثال قرونِ اولیٰ کے سوا بہت ہی کم دنیا میں پائی جاتی ہے۔چنانچہ اس کے خوش کن نتائج اور ثمرات شیریں بھی ملنے شروع ہو گئے اور باوجود مخالفوں کی مخالفت کے علی رغم انف ،سلیم الطبع اور شریف المزاج انسانوں نے اس زمانہ میں اس کثرت سے بیعت کی کہ ہمارے اخبارات ان اسماء کی اشاعت کی گنجائش نہ پاسکے اور اعلان کیا کہ بقدر گنجائش انشاء اللہ بتدریج اسماء بیعت کندگان شائع کئے جاتے رہیں گے۔“ قصہ کوتاہ۔حضور کا یہ سفر جہاں گوناگوں مصروفیتوں کے باعث حضرت اقدس کے لئے شبانہ روز بے انداز محنت و انہماک اور توجہ و استغراق کے سامان بہم پہنچاتا وہاں اپنے اور بیگانے ہر رتبہ و مرتبہ کے لوگوں کے واسطے رحمت و ہدایت اور علم و معرفت کے حصول کا ذریعہ تھا۔طالبان حق اور تشنگان ہدایت آتے نور و ہدایت اور ایمان و عرفان کے چشمہ سے سیری پاتے تھے۔مقامی شرفاء اور معززین کے علاوہ بعض مخالف مولوی بھی آتے رہتے۔بیرونی جماعتوں کے دوست بھی اکثر حضور کی زیارت کرنے اور فیض صحبت پانے کی غرض سے جمع رہتے تھے۔اور چونکہ قادیان کی نسبت لاہور پہنچنا کئی لحاظ سے آسان تر اور مفید تر تھا۔دوست اس سہولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی غرض سے اکثر آتے تھے اور اس طرح اچھا خاصہ ایک جلسہ کا رنگ دیکھائی دیا کرتا تھا۔چنانچہ اسی ضرورت کے ماتحت حضرت اقدس کولنگر کا انتظام بھی لاہور ہی میں کرنا پڑا۔نمازوں کے بعد عموماً حضور کا دربار لگا کرتا اور مختلف علمی و اختلافی مسائل کا چرچا رہتا تھا۔ایک انگریز سیاح ماہر علوم ہیئت وفلسفہ ان ایام میں جا بجا لیکچر دیتا پھرتا تھا۔ہمارے محترم حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے