سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 387
سیرت المہدی 387 ایک مزار ہے اس طرف حضور تشریف نہ لے گئے۔مگر بھول بھلیاں یا جو کچھ بھی اس جگہ کا نام ہے ریلوے لائن کے غربی جانب ایک عمارت ہے جس میں بہت سے دروازے ہی دروازے ڈاٹ دار ہیں وہاں حضور بیگمات اور بچوں کے ساتھ تشریف لے گئے۔شالا مار باغ سے ایک مرتبہ واپسی پر بڑے زور کی آندھی آ گئی جو بہت سخت تھی۔احباب جو مکان پر تھے ان کو بہت فکر ہوئی۔چنانچہ کئی دوست شالا مار باغ کی طرف چل نکلے۔مگر اللہ تعالیٰ کی شان کہ آندھی کی شدت سے پہلے ہی پہلے حضور معہ تمام قافلہ مکان پر بخیریت پہنچ گئے۔حضور کا معمول تھا کہ سیر وتفریح کو جانے سے قبل حاجات سے فراغت پا کر تشریف لایا کرتے تھے۔مگر پیشاب کی حاجت حضور کو اس لمبی سیر کے دوران میں بھی ہو جایا کرتی تھی۔جس کے لئے حضور کسی قدر فاصلہ پر حتی الوسع نظروں سے اوجھل بیٹھ کر قضائے حاجت فرمایا کرتے تھے۔لوٹا پانی کا کبھی حضور خود ہی اٹھا کر لے جایا کرتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ حضور جا کر قضائے حاجت کے لئے بیٹھ بھی جاتے اور میں احتیاط سے پیچھے کی طرف سے ہو کر لوٹا حضرت کے دائیں جانب رکھ دیا کرتا اور حضور فارغ ہو جاتے تو لوٹا اٹھا کر لے آتا۔ڈھیلا لیتے میں نے حضور کو دیکھا نہ سنا۔اسی طرح اکثر حضور کو وضو کرانے کے مواقع بھی میسر آتے رہے۔وضوحضور بہت سنوار کر فرمایا کرتے۔ہر عضو کو تین تین دفعہ دھوتے ،سر کے صرف اگلے حصہ کا مسح فرمایا کرتے۔ریش مبارک میں خلال فرماتے اور جرابوں پر مسح کبھی جرا ہیں اتار کر بھی پاؤں دھوتے تو انگلیوں میں خلال فرماتے۔دانتوں کو انگلی سے اچھی طرح ملتے اور مسوڑھوں کو بھی صاف فرماتے تھے۔لاہور کے اسی سفر کا واقعہ ہے کہ حاجی محمد موسیٰ صاحب نے ایک دن ایک موٹر کار حضور کی سواری کے واسطے کہیں سے مہیا کی اور حضرت سے اس میں سوار ہونے کی درخواست کی نیز سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی سوار ہونے کی خواہش کی۔چنانچہ حضور پر نور معہ سیدہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا موٹر میں سوار ہونے کی غرض سے مکان سے اتر کر سڑک پر تشریف لائے مگر موقعہ پر پہنچ کر سیدہ نے سوار ہونے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ مجھے خوف آتا ہے مگر حضرت اقدس بعض بچوں سمیت سوار ہوئے اور ایک قریبی سڑک کا چکر کاٹ کر واپس تشریف لے آئے۔موٹر اس زمانہ میں