سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 380 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 380

سیرت المہدی 380 حضور کے خاندان کے قدموں میں رہوں۔وہیں میرا جینا ہو اور وہیں خدا کرے کہ میرا ایمان و وفا پر مرنا ہو۔یہ میری دعا ئیں تھیں اور یہی آرزوئیں اور تمنا ئیں ہوا کرتی تھیں۔آخر اللہ کریم نے میرے لئے غیر معمولی سامان بہم پہنچائے اور میں چنگا بھلا رہ کر تو شاید عمر بھر بھی وہاں سے نہ نکل سکتا۔لہذا مجھے ایک خونخوار زخمی چیتے سے زخمی کرا کے اللہ کریم نے وہاں سے نجات دی اور میں مدتوں ہجر وفراق کے درد سہنے کے بعد خدا کے فضل سے پھر دارالامان پہنچا۔حضور کا یہ سفر میرے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ تھی اور میرے جو کچھ دل میں بھرا تھا اس کے پورا کرنے کے خدا نے سامان کرائے تھے۔میں ان ایام کو غنیمت سمجھ کر ہر وقت کمر بستہ رہتا اور حضور یا حضور کے خاندان کے احکام واشارات کی تعمیل اور خدمت میں ایسی لذت اور سرور محسوس کیا کرتا تھا کہ۔تخت شاہی پر بھی بیٹھ کر شاید ہی کسی کو وہ لذت خوشی اور سرور میسر ہوا ہو۔“ 66 میں سیر میں ہر وقت ہمرکاب رہتا۔قیام میں دربانی کرتا اور خدمت کے موقع کی تاک و جستجو میں لگا رہتا۔ہر کام کو پوری تندہی محبت اور چستی سے سرانجام پہنچاتا۔کسی کام سے عار نہ کرتا تھا۔خدا کا فضل تھا کہ میری دلی مراد میں بھر آئیں اور خدا نے بھی مجھے قبول فرما لیا اس طرح کہ میرے آقا، میرے ہادی و رہنما، میرے امام ہمام اور پیشوا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی مجھ سے خوش تھے۔غیر معمولی رنگ میں نوازتے تھے۔ایسا کہ کوئی شفیق سے شفیق یا مہربان سے مہربان ماں باپ بھی اپنی عزیز ترین اولاد کو بھی کم ہی نوازتے ہوں گے۔میں چونکہ اپنے محسن و مولا اور رحیم و کریم آقا کے حسن و احسان کے تذکروں سے ایمان میں تازگی ، محبت و وفا میں اضافہ اور عقیدت و نیاز مندی کے جذبات میں نمایاں ترقی کے آثار پاتا ہوں اور چونکہ اس رنگ میں یاد حبیب کا عمل میرے دل میں حضور پر نور پر سلام و درود بھیجنے اور حضور کے مقاصد کی تکمیل کے لئے دردمندانہ دعاؤں کا ایک بے پناہ جوش پیدا کرتا ہے۔اس لئے میں اس ذکر میں بے انداز لذت محسوس کرتا اور بار باران کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ کوئی راہ نزدیک تر راہِ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار