سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 381
سیرت المہدی 381 محبت کے پیدا کرنے اور بڑھانے کا واحد و مجرب طریق حسن واحسان کی یاد آور تکرار ہے۔کسی خوبی کو ہلکا کر کے اس کی تحقیر کرنا یا کسی نیکی کو بے قدری کی نگاہ سے دیکھنا موجب کفران وخسران اور لَئِن شَكَرْتُمُ لَا زِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ فَإِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ کے وعدو وعید کے نیچے آتا ہے۔فَاعْتَبِرُوا۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی سواری کے مقدس رتھ کے پیچھے ایک لکڑی کی سیٹ حکماً لگوادی تا کہ حضور کا یہ ادنی ترین غلام پیدل چلنے کی بجائے رتھ کے پچھلی طرف حضور کے ساتھ بیٹھ کر کوفت اور تکان سے بچ جایا کرے۔سبحان اللہ !!! خدا کے برگزیدہ انبیاء و مقدسین کس درجہ رحیم و کریم اور الہی اخلاق وصفات کے بچے مظاہر اور کامل نمونے اور تَخَلَّقُوا بِاخْلَاقِ اللهِ کی کیسی صحیح تصویر ہوتے ہیں کہ گویا وہی مثل صادق آتی ہے۔من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نه گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً - لوہا جس طرح آگ میں پڑ کر نہ صرف اپنا رنگ ہی کھو دیتا ہے بلکہ اپنے خواص میں بھی ایسی تبدیلی کر لیتا ہے کہ آگ ہی کا رنگ اور آگ ہی کے صفات اس میں پیدا ہو جاتے ہیں۔بالکل یہی رنگ ان خدا نما انسانوں کا اور بعینہ یہی حال ان کاملین کا ہوتا ہے۔میں اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بھلا چنگا تندرست و توانا تھا اور میرے جسمانی قوی ایسے صحیح اور قوی تھے کہ رتھ یا بیل گاڑی تو در کنارا اچھے اچھے گھوڑے بھی مجھ سے بازی نہ لے جاسکتے تھے۔اور کئی کئی دن رات متواتر کی دوڑ دھوپ اور محنت کا اثر مجھ پر نمایاں نہ ہوا کرتا تھا۔اور یہ صبح و شام کی سیر یا دن بھر کے کاروبار مجھے محسوس بھی نہ ہوا کرتے تھے۔مگر حضور کو میرے حال پر توجہ ہوئی اور اس خیال سے کہ میاں عبد الرحمن ساتھ چلتے چلتے تھک جاتے ہوں گے لہذا ان کے لئے رتھ کے پیچھے الگ جگہ بیٹھنے کی بنادی جائے۔اللہ اللہ کتنی ذرہ نوازی۔کتنارحم اور کیسا مروت اور حسن سلوک کا عدیم المثال نمونہ ہے۔