سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 379 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 379

سیرت المہدی 379 سڑکوں پر بھی اور شہر کے بازاروں مثلاً مال روڈ اور انارکلی میں بھی حضور سیر کے واسطے چلے جاتے تھے۔بازار میں سے گزرتے ہوئے کبھی سواری ٹھہرا کر ہند و حلوائیوں کے ہاں سے کھانے کی چیزیں بھی خرید فرما لیا کرتے تھے اور بیگمات اور بچوں کے علاوہ ہمرکاب خدام کو بھی شریک فرماتے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضور انارکلی میں سے گزرتے ہوئے کیسری کی دکان پراکثر ٹھہرا کرتے اور سب کو سوڈا پہلوایا کرتے تھے۔عام اجازت ہوا کرتی تھی جو جس کا جی چاہتا پیتا یعنی لیمن ، روز اور آئس کریم یا مائینیل وغیرہ وغیرہ۔مگر سید نا حضرت اقدس خود کھاری بوتل بتاشہ ڈال کر پیا کرتے تھے اور یہ عمل کھلے بازار میں کیسری کی دکان کے سامنے سواریاں کھڑی کر کے ہوا کرتا تھا۔بیگمات بھی رتھ یا فٹن میں تشریف فرما ہوا کرتی تھیں۔حضور کی غریب نوازی، کرم گستری اور غلام پروری کے چند ایک ادنی سے کرشمے اور بالکل چھوٹی ا۔چھوٹی مثالیں بھی اس موقعہ پرلکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔میں چونکہ ایک لمبے عرصے کی جدائی کے بعد قریب ہی کے زمانہ میں راجپوتانہ سے قادیان واپس آیا تھا۔جہاں مجھے میرے آقاسید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک نہایت عزیز کی خدمت اور ان کے زمینداری کاروبار میں مدد کے لئے ان کی درخواست پر جانے کا حکم نومبر ۱۹۰۳ء کے اواخر میں دے کر بھیجا تھا۔اور جہاں سے میں سوائے دو تین مرتبہ قادیان آنے اور چند روز ٹھہر کر پھر واپس چلے جانے کے دسمبر ۱۹۰۷ء میں بصد مشکل وہ بھی ایک چیتے کے حملہ سے سخت زخمی ہو کر واپس پہنچا تھا۔لہذا اس لمبی جدائی اور دوری کی تلافی کا خیال میرے دل میں اس زور سے موجزن تھا کہ جی قربان ہو جانے اور حضرت کے قدموں میں جان نثار کر دینے کو چاہتا تھا۔حضرت مولا نا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مقدس انسان کی وفات میری عدم موجودگی میں واقع ہوئی تھی اور رسالہ الوصیت مجھے راجپوتانہ ہی میں ملا تھا۔حضرت مولانا کی وفات اور اس کے بعد رسالہ الوصیت کے مضمون نے میری زندگی کی بنیاد کو ہلا دیا اور دنیا مجھے پر سرد کر دی تھی۔ایسی کہ مجھے کسی حال میں چین نہ پڑا کرتا اور دل بے قرار ہتا تھا کہ وہ دن کب آئے کہ میں پھر قادیان کے گلی کوچوں میں پہنچ کر دیار حبیب میں داخل ہو کر اپنے آقا اور