سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 30

سیرت المہدی 30 80 حصہ چہارم محمد یوسف صاحب بڑھانہ سے اڑھائی میل پر حسین پور کے رہنے والے تھے۔1021 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب سرمه چشم آریہ طبع ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چار نسخے مجھے اور چار منشی چراغ محمد صاحب کو کپورتھلہ بھیجے۔چراغ محمد صاحب دینا نگر گورداسپور کے رہنے والے تھے۔محمد خاں صاحب ہمنشی اروڑا صاحب منشی عبد الرحمن صاحب اور خاکسار سرمہ چشمہ آریہ مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔پھر محمد خاں صاحب، منشی اروڑ ا صاحب بعد میں قادیان گئے۔منشی اروڑا صاحب نے کہا کہ بزرگوں کے پاس خالی ہاتھ نہیں جایا کرتے۔چنانچہ تین چار روپیہ کی مٹھائی ہم نے پیش کی۔حضور نے فرمایا۔یہ تکلفات ہیں۔آپ ہمارے مہمان ہیں۔ہمیں آپ کی تواضع کرنی چاہئے۔ہم تینوں نے بیعت کے لئے کہا کیونکہ سرمہ چشم آریہ پڑھ کر ہم تینوں بیعت کا ارادہ کر کے گئے تھے۔آپ نے فرمایا۔مجھے بیعت کا حکم نہیں۔لیکن ہم سے ملتے رہا کرو۔پھر ہم تینوں بہت دفعہ قادیان گئے اور لدھیانہ میں بھی کئی دفعہ حضور کے پاس گئے۔1022 ﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جو فقرات عربی کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے لکھوائے تھے۔اُن میں بعض اشیاء کے نام جمع کر کے آپ نے اشعار میں منظوم کر دیا تھا۔تا کہ یاد کرنے میں سہولت رہے۔چنانچہ سونے ، اونٹ اور نیزوں کے نام حسب ذیل اشعار میں تھے۔(سونے کے آٹھ نام) نُضَارٌ ، عَسْجُدٌ ، عَيْنٌ وَّدَجَّالٌ وَعِقْيَانَ تبر ، زُخْرُفٌ ، ذَهَبٌ بِهِ فِسْقٌ وَعِصْيَانَ (اونٹوں کے ۳۷ نام ) عَنس ، قَعُودٌ ، نَاقَةٌ كَوْمَاءُ وَقَعَيّدٌ ، عُسُبُوْرَةٌ وَجُنَاءِ جَمَلٌ ، قَلُوْضٌ ، عَيْدَهُودٌ، عَسْبُرَةٌ ابِلٌ وَسِرْدَاحٌ حَكَى الْإِمْلَاء