سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 29
سیرت المہدی 29 29 حصہ چہارم 1018 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام کی جالندھر کی ملاقات اول کے بعد دو ماہ کے قریب گزرنے پر میں قادیان گیا۔اس کے بعد مہینے ڈیڑھ مہینے بعد اکثر جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ چار ماہ بعد گیا تو حضور نے فرمایا ” کیا کوئی معصیت ہوگئی ہے جو اتنی دیر لگائی میں رونے لگا۔اس کے بعد میں جلدی جلدی قادیان جایا کرتا تھا۔1019 بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کے بعد میں قادیان جاتا رہا۔بہت دفعہ ایسا ہوتا رہا کہ جمعہ کی نماز میں پڑھا تا اور حضرت صاحب اور حافظ حامد علی صرف مقتدی ہوتے۔میں نے کہا مجھے خطبہ پڑھنا نہیں آتا۔حضور نے فرمایا۔کوئی رکوع پڑھ کر اور بیٹھ کر کچھ درود شریف پڑھ دو۔انہی دنوں الہی بخش اکو نٹنٹ ، عبدالحق اکو نٹنٹ اور حافظ محمد یوسف سب اور سیر تینوں مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کے مرید تھے۔یہ بہت آیا کرتے تھے۔اکثر ایسا موقعہ ہوا ہے کہ میں قادیان گیا ہوں تو یہ بھی وہاں ہوتے۔1020 بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حافظ محمد یوسف اور محمد یعقوب برادرش نے عبداللہ صاحب غزنوی کا ایک کشف بیان کیا تھا کہ ”قادیان سے ایک روشنی نمودار ہوگی۔وہ ساری جہاں میں پھیلے گی مگر میری اولا داس سے محروم رہے گی اور ان تینوں میں سے کسی نے یہ بھی کہا کہ مرزا غلام احمد صاحب سے ممکن ہے یہ مراد ہو۔مہدویت کے دعوی کے بعد اس واقعہ سے محمد یوسف صاحب انکاری ہو گئے۔تو حضرت صاحب نے مجھے حلفیہ شہادت کے لئے خط لکھا۔کہ تمہارے سامنے محمد یوسف نے یہ واقعہ بیان کیا تھا۔میں نے محمد یوسف اور محمد یعقوب کو خط لکھا کہ یہاں میرا اور محمد خاں صاحب کا جھگڑا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ آپ نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا اور میں کہتا ہوں کہ ان الفاظ میں بیان کیا تھا۔محمد یعقوب کا جواب امرتسر سے آیا۔جس میں میرے بیان کردہ الفاظ کی اُس نے تائید کی۔میں محمد یعقوب کا خط لے کر قادیان پہنچا۔حضور بہت خوش ہوئے اور وہ خط شائع کر دیا جس سے یہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے۔محمد یوسف صاحب میرے ہم وطن تھے۔میرا اصل وطن قصبہ بڈھانہ ضلع مظفر نگر۔یوپی ہے اور