سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 354
سیرت المہدی 354 طوفان اور مشکلات کی کٹھن اور خطر ناک گھاٹیوں کو عبور کرنے کے بعد ہوا۔بڑی بڑی روکیں کھڑی کی گئیں۔طرح طرح کے حیلے اور بار یک در بار یک چالیں چلی گئیں مگر بالآخر ہندو و یہود اور ان کے معاون ومددگاروں کا خیبری قلعہ ٹوٹا اور بعینہ وہی ہوا جس کا نقشہ الہام الہی الله اکبر خربت خیبر میں بیان ہوا تھا۔دشمنوں نے ٹاؤن ہال نہ لینے دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی بہتر سامان کر دیا اور اسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ دروازہ کی وسیع اور دو منزلہ عمارت، لمبے چوڑے صحن ، بڑے بڑے کمروں ، ہال کمرہ اور گیلریوں کو ملا کر ایک بڑی عظیم الشان عمارت جو ایک بڑے اجتماع کے لئے کافی اور موزوں تھی خدا نے دلا دی۔۲۶؍ دسمبر کا روز جلسہ کا پہلا دن تھا۔حاضری حوصلہ افزا نہ تھی۔سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الف الف صلوۃ والسلام کے مضمون کے لئے ۲۷ / دسمبر کا دن اور ڈیڑھ بجے دوپہر کا وقت مقرر تھا۔خدا کی قدرت کا کرشمہ اور اس کے خاص فضل کا نتیجہ تھا کہ حضرت مولا نا مولوی عبدالکریم صاحب وفور عشق و محبت سے بیتاب ہو کر والہانہ رنگ میں وقت سے پہلے لاہور پہنچ گئے جن کی تشریف آوری سے ہم لوگوں کے لئے خاص تسکین اور خوشی کے سامان اللہ تعالیٰ نے بہم پہنچا دیئے۔۱۳۔حالات کی ناموافقت۔جوش مخالفت اور قسم قسم کی مشکلات نیز وقت کی ناموزونیت کے باعث خطرہ تھا اور فکر دامنگیر کہ جلسہ شاید حسب دل خواہ با رونق نہ ہو سکے گا مگرشان ایز دی کہ خلق خدا یوں کچھی چلی آ رہی تھی۔جیسے فرشتوں کی فوج اسے دھکیلے لا رہی ہو اور ان کی تحریک کا اتنا گہر اثر ہوا کہ مخلوق کے دل بدل گئے اور ان کے قلوب میں بجائے عداوت و نفرت کے عشق و محبت بھر گئی۔مخالفوں کی مخالفت نے کھاد کا کام دیا اور روکنے و شرارت کرنے والوں کے غوغا نے لوگوں کی توجہ کو جلسہ کی طرف پھیر دیا جس سے لوگ کشاں کشاں تیز قدم ہو ہو کر جلسہ گاہ کی طرف بڑھے اور ہوتے ہوتے آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ صحن اور اس کے تمام بغلی کمرے اور ہال بھر گیا۔اوپر کی گیلریوں میں تل دھرنے کو جگہ نہ رہی اور ہجوم اس قدر بڑھا کہ گنجائش نکالنے کوسمٹنا اور سکڑنا پڑا۔دسمبر کی تعطیلات کی وجہ سے جا بجا جلسے۔کانفرنسیں اور میٹنگیں ہو رہی تھیں۔لوگوں کی مصروفیات ان کے دنیوی کاموں میں انہماک اور مادی فوائد کے حصول کی مساعی کی