سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 355 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 355

سیرت المہدی 355 موجودگی میں ایک خالص مذہبی جلسہ و کانفرنس میں اس کثرت ہجوم کو دیکھنے والا ہر کس و ناکس اس منظر سے متاثر ہو کر اس حاضری کی کامیابی کو غیر معمولی، خاص اور خدائی تحریک و تصرف کا نتیجہ کہنے پر مجبور تھا اور ایک ہندو کو اس سے انکار تھا نہ ہی سکھ اور آریہ سماجی کو۔مسلمان کو اس سے اختلاف تھا نہ عیسائی یہودی یا د یو سما جی کو بلکہ ہر فرقہ وطبقہ کے لوگ آج کے اس خارق عادت جذب اور بے نظیر کشش سے متاثر اور دل ان کے سچ سچ مرعوب ہو کر نرم تھے۔دیکھنے اور سننے میں فرق ہوتا ہے اس تقریب کی تصویر الفاظ میں ممکن نہیں۔مختصر یہ کہ وہ اجتماع اپنے ماحول کے باعث یقینا عظیم الشان ، بے نظیر اور لا ریب غیر معمولی تھا۔۱۴۔مضمون کا شروع ہونا تھا کہ لوگ بے اختیار جھومنے لگے اور ان کی زبانوں پر بے ساختہ سبحان اللہ ! اور سبحان اللہ ! کے کلمات جاری ہو گئے۔سنا ہوا تھا کہ علم توجہ اور مسمریزم سے ایک معمول سے تو یہ کچھ ممکن ہو جاتا ہے مگر ہزاروں کے ایک ایسے مجمع پر جس میں مختلف قومی۔عقائد اور خیال کے لوگ جمع تھے اس کیفیت کا مسلط ہو جانا یقیناً خارق عادت اور معجزانہ تاثیر کا نتیجہ تھا۔یہ درست ہے کہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کو قرآن کریم سے ایک عشق تھا اور اللہ تعالیٰ نے آواز میں بھی ان کی لحن داؤدی کی جھلک پیدا کر رکھی تھی نیز وہ ان آیات و مضامین کے ربط اور حقائق سے متاثر ہو کر جس رقت ،سوز اور جوش سے تلاوت فرماتے آپ کا وہ پڑھنا آپ کی قلبی کیفیات اور لذت وسرور کے ساتھ مل کر سامعین کو متاثر کئے بغیر نہ رہتا تھا مگر اس مجلس کی کیفیت بالکل ہی نرالی تھی اور کچھ ایسا سماں بندھا کہ اول تا آخر آیات قرآنی کیا اور ان کی تشریح و تفسیر کیا ، سارا ہی مضمون کچھ ایسا فصیح ، بلیغ، موثر اور دلچسپ تھا کہ نہ مولانا موصوف کے لہجہ میں فرق آیا اور نہ جوش لذت ہی پھیکے پڑے۔معارف کی فراوانی کے ساتھ عبارت کی سلاست وروانی اور مضمون کی خوبی و ثقاہت نے حاضرین کو کچھ ایسا از خود رفتہ بنا دیا جیسے کوئی مسحور ہوں۔میں نے کانوں سنا کہ ہندو اور سکھ بلکہ کٹر آریہ سماجی اور عیسائی تک بے ساختہ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ایپکا رہے تھے۔ہزاروں انسانوں کا یہ مجمع اس طرح بے حس و حرکت بیٹھا تھا جیسے کوئی بہت بے جان ہوں۔اور ان کے سروں پر اگر پرندے بھی آن بیٹھتے تو تعجب کی بات نہ تھی۔مضمون کی روحانی کیفیت دلوں پر حاوی اور اس کے پڑھے جانے کی گونج کے سوا سانس تک لینے کی آواز نہ آتی تھی حتی کہ قدرت خداوندی سے اس