سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 353
سیرت المہدی 353 کام سے جو بہر حال پورا ہوکر رہے گا۔“ ۱۰۔اشتہار قریباً آدھی رات کو تیار ہوا اور میں اسی وقت لے کر پیدل بٹالہ کو روانہ ہو گیا۔۲۲؍ دسمبر ۱۸۹۶ء کی دو پہر کے قریب لاہور پہنچا۔جناب خواجہ صاحب اس زمانہ میں لاہور کی مشہور مسجد مسجد وزیر خان کے عقب کی ایک تنگ سی گلی میں رہا کرتے تھے جہاں میں انکو تلاش کر کے جاملا اور اشتہارات کا بنڈل اور حضور کا حکم کھول کھول کر سنا دیا بلکہ بار بار دہرا بھی دیا۔خواجہ صاحب کے ساتھ اس وقت دو اور دوست بھی وہاں موجود تھے جن کے نام مجھے یاد نہیں رہے۔خواجہ صاحب نے بنڈل اشتہارات کا کھولا اور مضمون اشتہار پڑھا اور میں نے دیکھا کہ چہرہ اُن کا بجائے بشاش اور خوش ہونے کے افسردہ و اداس سا ہو گیا اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے۔”میاں ! حضرت کو کیا علم کہ ہمیں یہاں کن مشکلات کا سامنا ہورہا ہے۔اور مخالفت کا کتنا زور ہے۔ان حالات میں اگر یہ اشتہار شائع کیا گیا تو یہ ایک تو وہ بارود میں چنگاری کا کام دے گا اور عجب نہیں کہ نفس جلسہ کا انعقاد ہی ناممکن ہو جائے۔موقعہ پر موجودگی اور حالات کی پیچیدگی سے آخر ہم پر بھی کوئی ذمہ واری آتی ہے۔اچھا جو خدا کرائے، انشاء اللہ کریں گے۔“ آخر سوچ بچار۔صلاح مشوروں اور اونچ نیچ۔اتار چڑھاؤ کی دیکھ بھال کے بعد دوسری یا تیسری رات کے اندھیروں میں بعض غیر معروف مقامات پر چند اشتہارات چسپاں کرائے جن کا عدم ووجود یکساں تھا کیونکہ غیر معروف مقامات کے علاوہ وہ اشتہاراتنے اونچے لگائے گئے تھے کہ اوّل تو کوئی دیکھے ہی نہیں اور اگر دیکھ پائے تو پڑھ ہی نہ سکے۔ا۔میں نے دیکھا اور سنا بھی کہ سیدنا حضرت اقدس کے اصل مضمون کا حصہ خواجہ صاحب قادیان اپنے ساتھ لاہور لائے تھے اس کا مطالعہ اور آیات قرآنی کی تلاوت کی مشق کا سلسلہ بھی جاری تھا۔خواجہ صاحب کے لاہور چلے آنے کے بعد جو جو حصہ مضمون تیار ہوتا جاتا اس کی نقل ان کو لاہور پہنچائی جاتی ނ رہتی اور یہ سلسلہ ۲۵ / دسمبر ۱۸۹۶ء کی شام تک جاری رہا تھا یا شاید ۲۶؍ دسمبر کی رات تک بھی۔جلسہ خدا کے فضل سے ہوا۔بہتر جگہ اور بہتر انتظام کے ماتحت ہوا اور واقعی سخت مخالفتوں کے ۱۲۔