سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 352 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 352

سیرت المہدی 352 لڑی کی طرح سجا کر ان سے استنباط فرمائے ہیں مولوی صاحب نے اپنے مضمون میں یکجا جمع کر دی ہیں جن کا وہاں ربط ہے نہ موقعہ محل اور جوڑ۔_^ جناب خواجہ کمال الدین صاحب مضمون کو پڑھا کرتے۔پڑھنے کے طریقوں کی مشق کیا کرتے تھے اور ان کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ پڑھنے کے طریق و بیان میں کوئی جدت پیدا کریں جس سے سامعین زیادہ سے زیادہ متاثر ہو سکیں۔آیات قرآنی۔احادیث یا عربی الفاظ وفقرات کو ازبر کرنے کی کوشش کیا کرتے۔قدرت نے خواجہ صاحب کو جہاں اردو خوانی میں خاص ملکہ دیا تھا وہاں آیات قرآنی کی تلاوت میں باوجود کوشش کے بہت کچھ خامی پائی جاتی تھی جسے خواجہ صاحب محنت اور شوق کے باوجود پورا کرنے سے قاصر تھے۔مزید برآں انہی ایام میں بعض ان کے ہمر از دوستوں کی زبانی معلوم ہوا کہ دراصل خواجہ صاحب کو مضمون کی بلند پائیگی، کمال و نفاست اور عمدگی کے متعلق بھی شکوک تھے جس کا اثر ان کے طرز ادا و بیان پر پڑنالازمی تھا اور عجب نہیں کہ یہ بات سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک بھی جا پہنچی ہو۔و۔وو جلسہ سے چند ہی روز قبل اللہ تعالیٰ نے حضور کو الہاماً اس مضمون کے متعلق بشارت دی کہ ” یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا۔اور اس کی مقبولیت دلوں میں گھر کر جائے گی اور کہ یہ امر بطور ایک نشان صداقت“ ہوگا۔چنانچہ حضور پر نور نے ۲۱ دسمبر ۱۸۹۶ء کو ایک اشتہار بعنوان سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری لکھ کر کا تب کے حوالے کیا اور مجھ نا چیز غلام کو یاد فرما کر یہ اعزاز بخشا اور فرمایا کہ میاں عبدالرحمن ! اس اشتہار کو چھپوا کر خود لاہور لے جاؤ اور خواجہ صاحب کو ( جو کہ ایک ہی روز پہلے انتظامات جلسہ کے لئے لاہور بھیجے گئے تھے ) کو پہنچا کر ہماری طرف سے تاکید کر دینا کہ اس کی خوب اشاعت کریں۔ضرورت ہو تو وہیں اور چھپوا لیں۔ہماری طرف سے ان کو اچھی طرح تاکید کرنا کیونکہ وہ بعض اوقات ڈر جایا کرتے ہیں، بار بار اور زور سے یہ پیغام پہنچا دینا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔لوگوں کی مخالفت کا خیال اس کام میں ہرگز روک نہ بنے۔یہ انسانی کام نہیں کہ کسی کے روکے رک جائے بلکہ خدا کا