سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 28 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 28

سیرت المہدی 28 حصہ چہارم عورتیں اپنے بچے حضرت صاحب کی طرف کرتی تھیں کہ حضور کے کپڑوں کی ہوا لگ جائے۔اُس وقت اعتقاد کا یہ عالم تھا۔غرض حضور منشی عبداللہ صاحب کی بیٹھک میں فروکش ہوئے۔1015 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جالندھر میں منشی عبداللہ صاحب کی بیٹھک میں فروکش تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ سرسید کو کیا سمجھتے ہیں؟ فرمایا ! میں تو ایک طرح دیا نند کی بھی اس لحاظ سے قدر کرتا ہوں کہ بت پرستی کے خلاف ہے اور سرسید تو مسلمان ہے اور انہوں نے تعلیمی کام مسلمانوں کے لئے کیا ہے۔اُن کا ممنون ہونا چاہئے۔سرسید کو مسلمان کہنا بہت سے لوگوں کو نا گوار معلوم ہوا۔1016 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جالندھر میں ہی تھے تو اُس زمانہ کے اعتقاد کے بموجب کہ دل کی بات اہل اللہ بتا دیا کرتے ہیں۔میں نے اپنے دل میں سوچا کہ نماز میں وساوس کس طرح دور ہو سکتے ہیں۔تقریر کرتے کرتے حضور نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا! ايَّاكَ نَعْبُدُ کے تکرار سے اور پھر تقریر جاری رکھی۔میرا اس وقت آپ پر ایمان ہو گیا۔منشی عبداللہ صاحب کچھ انڈوں کا حلوا بنوا کر لائے۔حضور نے فرمایا! مجھے بھوک نہیں ہے۔لیکن منشی صاحب کے اصرار پر تھوڑا سا کھا لیا۔ظہر کی نماز حضور نے قریب کی مسجد میں پڑھی۔آٹھ نو بجے صبح آپ سٹیشن پر اُترے تھے۔اور بعد نما ز ظہر آپ واپس سٹیشن پر تشریف لے گئے۔آپ گاڑی میں بیٹھ گئے اور میرے مصافحہ کرنے پر فرمایا۔ہم سے خط و کتابت رکھا کرو۔یہ غالبا ۱۹۴۲ بکرمی کا واقعہ ہے۔1017 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کپورتھلہ آکر اپنے دوستوں منشی اروڑا صاحب اور محمد خاں سے إِيَّاكَ نَعْبُدُ والی بات سنائی اور حضور کی تعریف کی۔اس ملاقات سے دو ڈیڑھ ماہ بعد میں قادیان گیا۔حضور بہت محبت سے پیش آئے۔خود اندر سے کھا نالا کر کھلاتے۔میں دس بارہ دن قادیان میں رہا۔اُس وقت حافظ حامدعلی خادم ہوتا تھا اور کوئی نہ تھا۔جہاں اب مہمان خانہ اور مفتی محمد صادق صاحب کا مکان ہے۔اس کے پاس بڑی چوڑی کچی فصیل ہوتی تھی۔