سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 27 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 27

سیرت المہدی 27 حصہ چہارم 1013 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ عبدالواحد صاحب احمدی نہیں ہوئے۔میں نے اپنی بیعت کے بعد اُن سے پوچھا کہ آپ تو سب حالات جانتے ہیں بیعت کیوں نہیں کر لیتے۔انہوں نے کہا مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزا صاحب کے پاس دو جن سکھ دیو اور ہر دیو ہیں اور اُن پر اُن کا دارو مدار ہے۔اور گویا میں اس الہام کے ذریعہ سے بیعت سے روکا گیا ہوں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ذکر کیا کہ یہ اُن کا الہام غالبا شیطانی ہے۔حضور نے فرمایا۔نہیں۔یہ رحمانی الہام ہے۔جس زبان میں الہام ہو اس کے مطابق معنے کرنے چاہئیں۔دیو سنسکرت میں فرشتے کو کہتے ہیں۔گویا راحت کے فرشتے اور ملائکۃ اللہ ہمارے مددگار ہیں۔تم انہیں لکھو۔چنانچہ میں نے انہیں گڑگانواں میں جہاں وہ منصف تھے خط لکھا۔جواب نہ آیا۔تھوڑے عرصہ کے بعد عبدالواحد صاحب کا انتقال ہو گیا۔عبدالواحد صاحب مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے مرید تھے۔1014 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہمارے رشتہ دار منشی عبد اللہ صاحب جالندھر میں صدر واصل باقی نویس تھے۔جو حاجی صاحب کے بہنوئی تھے۔اُن سے ملنے میں جالندھر جایا کرتا تھا۔جالندھر میں اسی طرح ایک مرتبہ گیا ہوا تھا کہ معلوم ہوا کہ ایک بزرگ کہیں سے جالندھر آرہے ہیں۔یہ سرمہ چشمہ آریہ کی طباعت سے پیشتر کا واقعہ ہے۔جالندھر سٹیشن پر میں اور میرا ایک رشتہ دار گئے۔وہاں دو تین سو آدمی حضور کی پیشوائی کے لئے موجود تھے اور کنور بکر ماں سنگھ صاحب نے اپنا وز یر اور سواری حضور کو لانے کے لئے بھیجے ہوئے تھے۔حضرت صاحب ریل سے اُترے۔یہ صحیح یاد نہیں کہ حضور کہاں سے تشریف لا رہے تھے۔لوگوں نے مصافحہ کرنا شروع کیا اور وزیر مذکور نے حضور کو بکر ماں سنگھ صاحب کے ہاں لے جانے کو کہا۔اس دوران میں میں نے بھی مصافحہ کیا تو حضور نے دریافت فرمایا کہ آپ کہاں رہتے ہیں۔میں نے کہا ” کپورتھلہ لیکن یہاں میرے ایک رشتہ دار منشی عبد اللہ صاحب بوچڑ خانہ کے قریب رہتے ہیں۔حضور نے فرمایا ہم آپ کے ساتھ چلیں گے۔چنانچہ بکر ماں سنگھ کی گاڑی میں حضور ، مولوی عبداللہ صاحب سنوری ، حافظ حامد علی صاحب اور خاکسار سوار ہو کر منشی عبد اللہ صاحب کے مکان پر آگئے۔جب حضور گاڑی سے اُترنے لگے تو بہت ہجوم لوگوں کا ہو گیا۔