سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 306 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 306

سیرت المہدی 306 حصہ پنجم جہاز میں سوار ہوا تو وہ جہاز آگے چل کر خطرہ میں ہو گیا۔یہاں تک کے لوگ چیخ و پکار کرنے لگ گئے۔حتی کہ میرا دل بھی فکر مند ہو گیا۔تب فوراً میرے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ میں اللہ تعالیٰ کے فرستادہ کا بھیجا ہوں اور اس کے کام کے واسطے جارہا ہوں۔پس یہ جہاز کس طرح ڈوب سکتا ہے۔چنانچہ میں نے بلند آواز سے پکارا۔کہ اے لوگو! گھبراؤ مت۔یہ جہاز ہرگز نہیں ڈوبے گا کیونکہ میں ایک نبی کا فرستادہ ہوں اور میں اس جہاز میں سوار ہوں اس واسطے یہ جہاز ہر گز نہیں ڈوبے گا۔چنانچہ میں نے اُن کو بہت تسلی دی اور یہ آگے چلے گئے چنانچہ جہاز اس جگہ پہنچ گیا۔جس جگہ میں نے اتر نا تھا۔اس پر میں اس جگہ اتر گیا اور جس طرف جانا تھا چلا گیا اور وہ جہاز اس جگہ سے آگے نکل گیا اور آگے جا کر غرق ہو گیا۔جب اس جہاز کے ڈوبنے کی خبر آئی تو میرے گھر والوں نے بھی سنا کہ فلاں جہاز فلاں تاریخ کو غرق ہو گیا تو میرے گھر کے لوگ روتے پیٹتے حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچے اور رورو کر کہنے لگے کہ فلاں جہاز جس پر حافظ حامد علی صاحب سوار تھے ڈوب گیا ہے۔حضرت صاحب نے اس کے حال پکار کو سن کر فرمایا۔ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ فلاں جہاز فلاں تاریخ کو ڈوب گیا ہے اور اس میں حافظ صاحب بھی تھے۔اور پھر خاموش ہو گئے اور کچھ جواب نہ دیا۔چند منٹ کے بعد بلند آواز سے فرمایا ”صبر کر و حافظ حامد علی صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں جس کام کے واسطے بھیجے گئے تھے کر رہے ہیں۔اور سب کو تسلی دی اور گھر کو روانہ کر دیا۔1556 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں عید کی نماز پڑھنے کے لئے قادیان شریف آیا۔جب نماز ادا کر چکے تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی کہ حضور! جناب نے فرمایا تھا کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ کوئی اپنا نشان دکھاوے گا۔اور آج عید کا دن ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔اور قلم دوات و کاغذ اپنے پاس لے لو۔یہ حکم سن کر سب دوست بیٹھ گئے اور حضور نے کرسی پر تشریف رکھ کر عربی زبان میں خطبہ شروع کر دیا جس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا۔کچھ دوستوں نے وہ خطبہ لکھنا شروع کر دیا اور جو کچھ حضور فرماتے ، لکھنے والے لکھتے جاتے۔جب کوئی لفظ کسی کی سمجھ میں نہ آتا تو حضور پوچھنے والوں کو بمعہ جوڑ وغیرہ بتلا دیتے۔اس وقت حضور کے مبارک منہ سے اس طرح الفاظ جاری