سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 307
سیرت المہدی 307 حصہ پنجم تھے۔کہ گویا کتاب آگے رکھی ہوئی ہے جس پر سے دیکھ کر پڑھ رہے ہیں۔کتاب پر سے پڑھنے والے بھی کبھی رک ہی جاتے ہیں مگر حضور بالکل نہیں رکھتے تھے۔حضور کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا اور حضور کی طرف میری آنکھیں لگی ہوئی تھیں۔حضور کا رنگ اس وقت سرسوں کے پھول کی مانند تھا۔آنکھیں بند رکھتے تھے اور کبھی کبھی کھول کر دیکھ لیا کرتے تھے۔1557 بسم الله الرحمن الرحیم منش محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ رشوت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ رشوت یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کا حق غصب کرنے کے لئے کسی کو کچھ دے۔لیکن اگر کسی بدنیت افسر کو اپنے حقوق محفوظ کرانے کے لئے کچھ دے دے تو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی کتے کو جو کاشت ہو۔کوئی روٹی کا ٹکڑا ڈال دیا جائے۔1558 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بواسطہ محمد احمد صاحب بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کرم دین سکنہ بھیں والے کے مقدمہ کی پیروی کے لئے حضرت صاحب گورداسپوریگوں میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور میں حضور کے ساتھ ہوتا تھا۔ایک دفعہ جب ہم گورداسپور سے روانہ ہونے لگے تو قریباً گیارہ بجے دن کے تھے۔اور سخت گرمیوں کا مہینہ تھا۔میں حضور کے ساتھ یکے کے اندر بیٹھا۔میں پہلے اس بات کا خیال کر لیا کرتا تھا کہ جس وقت ہم روانہ ہوں گے دھوپ کا رخ کسی طرف ہوگا اور یکہ میں سایہ کس طرف۔پھر سائے میں حضور کو بٹھاتا۔میں ثواب کی خاطر ایسا کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ حضور کو اس بات کا علم نہیں کہ میں عمداً ایسا کرتا ہوں۔جب ہم روانہ ہوئے تو سخت گرمی اور دھوپ تھی اور یکہ سیدھا گورداسپور سے قادیان آتا تھا۔بٹالہ کے راستہ سے نہیں آتا تھا۔جونہی ہم روانہ ہوئے تو بادل کا ایک ٹکڑا سورج کے سامنے آگیا اور قادیان تک ہم پر سایہ کیا اور ٹھنڈ بھی ہوگئی۔ہم یکے پر سے قادیان آ کر اترے۔تو حضور نے فرمایا۔مفتی صاحب ! اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل کیا جو بادل کا سایہ ہم پر کر دیا اور بدلی ساتھ ساتھ قادیان تک ہی آ گئی۔پھر حضور نے فرمایا کہ مفتی صاحب! اسی قسم کا ایک واقعہ پہلے بھی ہمارے ساتھ پیش آچکا ہے جب میں والد صاحب کے ساتھ زمین کے بارہ میں مقدمہ کی پیروی کے لئے امرتسر جایا کرتا تھا۔جب ہم ( بٹالہ یا امرتسر خاکسار کو بھول گیا ہے، محمد احمد ) سے روانہ ہوئے