سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 305
سیرت المہدی 305 حصہ پنجم بچوں کے نام حضور اقدس کی خدمت میں لکھ کر پیش کئے چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد ڈاکٹر اسماعیل صاحب کی اہلیہ صاحبہ فوت ہوگئیں۔حضور نے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے والد سے کہا کہ تم اپنی لڑکی کا رشتہ ڈاکٹر اسماعیل صاحب کو دے دو اس نے صاف انکار کر دیا کہ حضور یہ بڑی عمر کے ہیں اور صاحب اولا د ہیں اس واسطے میں یہ رشتہ کر نا منظور نہیں کرتا۔چنانچہ اس کے بعد میں نے سنا کہ حضور نے اس رجسٹر کو پھاڑ دیا اور اس خیال کو چھوڑ دیا میں نے سنا کہ اس لڑکی کا رشتہ کسی اور جگہ اس کے والد نے کر دیا اور اس لڑکی زندگی بڑی دکھی رہی اور دکھ میں مبتلا رہی۔1554 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب کہ پہلی ہی دفعہ ہمارے گاؤں میں طاعون پڑی تو ہمارے گاؤں میں سے بھی چو ہے مرنے شروع ہو گئے۔میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جمعہ کو قادیان میں ہی جمعہ پڑھا کرتا تھا اور اکثر حضور سے مل کر واپس گھر کو جاتا تھا۔اس روز میں نے حضور سے ملنے کے وقت عرض کی۔حضور! ہمارے گاؤں میں چوہے مرنے شروع ہو گئے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ جھٹ باہر کھلی ہوا میں چلے جاؤ ایسے خطرہ کے وقت جگہ کو چھوڑ دینا ہی سنت ہے۔ضرور گھر چھوڑ کر باہر چلے جاؤ۔چنانچہ میں حضور کے حکم کے ماتحت گھر چھوڑ کر باہر بلا گیا۔اور بہت سے لوگ گاؤں کے گھر چھوڑ کر میرے ساتھ باہر چلے گئے۔میرا ایک چچازاد بھائی نہ گیا۔چند دن کے بعد وہ طاعون میں مبتلا ہو کر اس دنیا سے کوچ کر گیا۔1555 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ شیخ حامد علی صاحب جو ابتدا ہی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں رہے تھے میری ان سے بڑی محبت تھی ، بعض بعض وقت وہ میرے پاس حضور کی ابتدائی باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ شیخ صاحب فرمانے لگے کہ ایک دفعہ حضور نے ایک ضروری کام کے لئے مجھے افریقہ یا امریکہ ان دونوں میں سے شیخ صاحب نے کسی کا نام لیا جو مجھے اس وقت یاد نہیں ہے بھیجا۔جب میں حضرت حافظ حامد علی صاحب اپنے بھائی کے ساتھ مشرقی افریقہ گئے تھے۔