سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 290
سیرت المہدی 290 حصہ پنجم محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب میں نے بیعت کی تھی اس وقت بٹالہ والے منشی عبد العزیز صاحب قادیان آئے ہوئے تھے۔ہم چار پانچ عورتیں ، میری ساس، را جن اور میری نند تھیں۔جب ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو حضور نے دریافت کیا کہ ”تم کیوں آئی ہو؟ میری ساس راجن نے کہا کہ ہم منشی صاحب کو جو میرا بھتیجا ہے ملنے آئی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ نہیں جس بات کے واسطے تم آئی ہو وہ کیوں نہیں بتا تیں ؟“ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو علم ہو گیا تھا کہ ہم بیعت کرنے آئی ہیں۔پس ہم سب نے بیعت کر لی۔بیعت لینے سے پہلے فرمایا تھا کہ ”مائی را جن ! یہ کام بہت مشکل ہے تم سوچ لو کہیں گھبرا نہ جاؤ۔چونکہ ابھی ہمارے مردوں نے بیعت نہیں کی تھی اسلئے حضور نے فرمایا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ تم مستقل مزاج نہ رہ سکو اور بیعت سے پھر جاؤ“ ہم نے کہا کہ حضور ! خواہ کچھ ہو ہم نہیں گھبرائیں گی اور بیعت پر قائم رہیں گی۔تو حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی۔1523 بسم الله الرحمن الرحیم۔محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صو با ارائیں منگل نے بواسطہ مکرمہ محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ منشی عبد العزیز صاحب بٹالہ والے جن کی بیوی کا نام برکت ہے، جواب شاید پھر گئے ہیں۔اس زمانہ میں قادیان گول کمرہ میں ہوتے تھے۔وہ میری ساس را جن کے بھتیجے تھے۔منشی صاحب کی پھوپھی جس کا نام ”نائنکی“ تھا وہ ہمارے جنگل میں رہتی تھی جو کہ احمدیت کی سخت مخالف تھی۔کہتی تھی کہ " مرزا صاحب کی بیعت کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔اور مردوں میں بھی مخالفت عام تھی اس لئے ہم نے بیعت تو کر لی تھی مگر ہم کسی سے اس کا ذکر ڈر کی وجہ سے نہیں کر سکتے تھے۔ہم نے کوشش کی کہ نانکی اگر بیعت کرلے تو اچھا ہوگا۔ہم نے اسے سمجھانا شروع کیا کہ تو پہلے کہا کرتی تھی کہ جب مہدی آوے گا تو میں اس کو مان لوں گی مگر تم نہیں مانو گی۔اب یہ جو مہدی آ گیا ہے تو اس کو کیوں نہیں مانتی ؟“ مگر وہ مخالفت کرتی رہتی اور کہتی تھی کہ یہ مہدی نہیں ہے۔“ ایک دن وہ قادیان میں منشی صاحب کے پاس آئی تو اس کو سمجھایا کہ اس طرح نکاح نہیں ٹوٹتے تو آہستہ آہستہ اس کو سمجھ آگئی اور اس نے بیعت کر لی۔ہمارے گھر میں خدا کے فضل سے مخالفت کا جوش کم ہو گیا اور ان کو معلوم ہو گیا کہ ہم نے عرصہ کی بیعت کی ہوئی ہے۔جب مخالفت کا جوش کچھ کم ہوا تھا تو میرے خسر