سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 291
سیرت المہدی 291 حصہ پنجم مسمی کوڈا نے کہا تھا کہ ” نکاح تو نہیں ٹوٹتے مگر مجھے تو یہ فکر ہے کہ ہم میں سے جو بیعت کرے گا وہ اس طرح الگ ہو جائے گا کہ برادری میں اپنی لڑکیاں نہیں دے گا۔“ جب ہمارے مرد بھی چند ایک احمدی ہو گئے تھے تو ہم نے حضور کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ حضور ہم گھبرائے تو نہیں تھے مگر یہ قصور ہم سے ضرور ہوا ہے کہ ہم نے ایک عرصہ تک یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ ہم نے حضور کی بیعت کر لی ہے۔حضور نے ہمیں تسلی دی اور فرمایا کہ یہ قصور نہیں ہے یہ مصلحتاً ایسا کیا گیا ہے جس کا نتیجہ بہت اچھا ہوا ہے۔“ 1524 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت سونے کا زیور پہن کر آئی تو جس پلنگ پر حضرت اُم المومنین اور حضور بیٹھے تھے آکر بیٹھ گئی۔ہم لڑکیاں دیکھ کر ہنسنے لگیں۔ہم نے کہا کہ اگر ہمیں بھی سونے کی بالیاں اور کڑے وغیرہ ملتے تو ہم بھی حضوڑ کے پلنگ پر بیٹھتیں۔حضرت اُم المومنین نے حضور کو بتا دیا کہ یہ لڑکیاں ایسا کہ رہی ہیں۔حضور ہنس پڑے اور فرمایا کہ ”آجاؤ لڑ کیو! تم بھی بیٹھ جاؤ“۔1525 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ تو صاحبہ اہلیہ فجا معمار خادم قدیم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ” مجھے نیند بہت آیا کرتی تھی۔حضور علیہ السلام نے صفیہ بنت قدرت اللہ خان صاحب سے فرمایا تھا کہ حسو کو صبح جگا دیا کرو۔ایک دن زینب مجھے جگا رہی تھی اور حضوڑ دیکھتے تھے۔اس نے پہلے میرا لحاف اتارا پھر میرے منہ پر تھپڑ مارا۔حضور نے فرمایا کہ ایسے نہیں جگاتے۔بچے کو تکلیف ہوتی ہے۔تم اسے نہ جگایا کرو میں خود جگا دیا کروں گا۔“‘اس دن سے جب حضور صبح اٹھ کر رفع حاجت کو جاتے تو پانی کا ذرا سا چھینٹا میرے منہ پر مار دیتے۔میں فوراً اُٹھ کھڑی ہوتی۔حضور علیہ السلام مجھے نماز کے واسطے اٹھایا کرتے تھے۔“ 1526 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ خیر النساء صاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبدالستارشاہ صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر