سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 289 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 289

سیرت المہدی 289 حصہ پنجم نے کہا کہ کہیں میرے اوپر چھت نہ گر جائے۔لیکن میں جلدی سے اندرگئی اور بی بی کو اٹھا لائی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لڑکی بڑی ہشیار ہے۔یہ جو بھاری کام کیا کرے گی اس میں برکت ہوگی اور اس کو تھکن نہیں ہوگی۔حضور علیہ السلام کی برکت سے میں بھاری بھاری کام کرتی ہوں مگر تھکتی نہیں۔1519 بسم اللہ الرحمن الرحیم محتر مہ لال پری صاحبہ پٹھانی بنت احمد نور صاحب کا بلی نے بواسطه مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ (حضور ) ایک دن سیر کو گئے جوتیوں پر بہت گردا گرا۔میری والدہ مرحومہ اپنے دوپٹہ سے پوچھنے لگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ نعمت ! چھوڑ دو کیا کرنا ہے؟ آخرت کا گردا اس سے زیادہ ہے۔“ 1520 بسم الله الرحمن الرحیم محترمہ خیر النساءصاحبہ والدہ سید بشیر شاہ صاحب بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن میری والدہ صاحبہ نماز فجر باجماعت پڑھنے کے لئے گئیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ آج رات کو کوئی خاص چیز دیکھی ہے؟‘ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ” آدھی رات کا وقت ہوگا کہ مجھے یوں معلوم ہوا جیسے دن چڑھ رہا ہے ، روشنی تیز ہورہی ہے۔تو میں جلدی سے اٹھی اور نفل پڑھنے شروع کر دئے۔معلوم تو ہوتا تھا کہ صبح ہوگئی ہے لیکن میں کافی دیر تک نفل پڑھتی رہی اور اس کے بڑی دیر بعد صبح ہوئی۔“ آپ نے فرمایا کہ ” میں نے یہی پوچھنا تھا۔“ 1521 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ جب میں شروع شروع قادیان میں آئی تو میں نے دیکھا کہ جس جگہ اب نواب صاحب کا شہر والا مکان ہے وہاں لنگر ہوا کرتا تھا اور روٹی یہاں تیار ہوتی تھی مگر سالن اندر عورتیں پکایا کرتی تھیں۔جب کھانا تیار ہو جاتا تو مسجد مبارک کے قدیم حصہ کی بالائی چھت پر لے جایا جاتا اور حضور علیہ السلام مہمانوں کے ساتھ اکثر وہیں کھا نا کھاتے تھے۔یہ مغرب کے بعد ہوتا تھا۔دو پہر کے کھانے کے متعلق مجھے یاد نہیں کہ کس طرح اور کہاں کھایا جاتا تھا۔1522 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صو با ارائیں نگل نے بواسطہ مکرمہ