سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 276
سیرت المہدی 276 حصہ پنجم تارک الدنیا بزرگ سے بنے تو بنے۔نہیں تو جو خدا کی مرضی۔شیخ صاحب یہ سن کر خاموش ہو کر اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔شیخ صاحب فرماتے تھے کہ ان ایام میں میرا معمول تھا کہ ہفتہ بھر جس قدر براہین احمدیہ کی کاپی کرتا ہفتہ کے روز خود قادیان لے جا کر اس کے پروف حضرت صاحب کے پیش کرتا بعد ملاحظہ اتوار کو پروف لے کر بغرض طباعت امرتسر واپس آ جاتا۔1494 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد کرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی فرماتے ہیں کہ درویش سے اس گفتگو کے بعد چونکہ ان کی بات کا میرے دل پر ایک اثر تھا ، جس ہفتہ کے دن میں نے قادیان کو پروف لے کر جانا تھا میں درویش مذکور کو پھر ملا اور اس سے کہا کہ میں بھی پروف لے کر جانے والا ہوں اگر آپ چلے چلیں تو کیا حرج ہے؟ سیر ہی ہو جائے گی۔میرے ساتھ ہونے کے سبب آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔میرے ساتھ واپس آکر پھر جدھر آپ کا جی چاہئے روانہ ہو جانا۔اگر آپ کو کرایہ کا خیال ہے تو امر تسر سے واپسی تک کا کرایہ میں دینے کو بخوشی آمادہ ہوں۔اس پر اس درویش نے کہا کہ نہیں کرایہ وغیرہ کا کچھ خیال نہیں۔میں پہلے بھی پھرتا ہی رہتا ہوں۔آپ کہتے ہیں تو میں چلا چلوں گا۔شیخ صاحب فرماتے تھے کہ کچھ بادل ناخواستہ سا میرے کہنے پر وہ چلنے کو تیار ہو گیا اور دونوں امرتسر سے بسواری ریل روانہ ہوئے اور بارہ بجے دن کے گاڑی اسٹیشن بٹالہ پر پہنچی وہاں سے بسواری یکہ قادیان کو چل پڑے۔جب نہر کا پل عبور کر کے اس مقام پر پہنچے جہاں سے قادیان کی عمارات نظر آنے لگتی ہیں۔تو شیخ صاحب نے ان عمارات کی طرف اشارہ کر کے درویش صاحب سے کہا کہ ” یہ عمارات اسی قصبہ کی ہیں جہاں ہم نے جانا ہے۔اس پر اس درویش نے ایک آدمی کھینچ کر کہا کہ منشی صاحب! خدا کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ بزرگ یہی ہوں جن کے پاس آپ مجھے لے جارہے ہیں جن کا حلیہ میرے دل کی لوح پر نقش ہے۔اس پر شیخ صاحب نے فرمایا کہ اس روز تو آپ نے فرمایا تھا کہ ایسے لوگوں سے میری مراد پوری ہونے کی امید نہیں پڑتی۔پھر کس بات نے آپ کی رائے میں تبدیلی پیدا کر دی؟ اس کے جواب میں درویش مذکور نے کہا کہ اس کی کوئی مدلل وجہ تو میں نہیں بتا سکتا مگر ایک کیفیت ہے جس کی مثال ایسی ہے کہ جنگل میں کوئی پیاسا پانی کی تلاش میں سرگردان ہو اس کو پانی تو ابھی نہ ملے لیکن دریا پر سے