سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 275
سیرت المہدی 275 حصہ پنجم لیکن اس حلیہ سے جس کا نقشہ فوٹو کی طرح میرے دل پر ہے کسی کو مطابق نہیں پایا۔اب مین ایک آدھ روز میں یہاں سے کسی اور طرف کو چلا جاؤں گا۔یہی میری سیاحی کا مدعا اور غرض ہے۔شیخ صاحب فرماتے تھے کہ اس کی سرگذشت سن کر مجھ کو حیرت بھی ہوئی اور اس کے حال پر رحم بھی آیا۔حیرت تو اس لئے کہ کس عزم و استقلال کا یہ شخص ہے کہ ایک امید موہوم کے پیچھے اور محض ایک خواب کی بات پر اپنا گھر بار اور سب کچھ چتی کہ اپنی زندگی بھی اسی بازی پر لگائے پھر رہا ہے اور رحم اس لئے کہ اگر ایسا شخص اس کو نہ ملا تو بیچارہ کی ساری زندگی کسی مصیبت میں گزرے گی؟ اور اس نے ایسی منزل اختیار کی ہے جس کا انجام لا پتہ ہے۔اگر وہ شخص آپ کو نہ ملا تو پھر آپ کیا کریں گے۔اس کے جواب میں اس نے کہا کہ میں نے عزم کر لیا ہے کہ اپنے اخیر دم تک اسطرح مصروف رہوں گا اور جہاں موت آجاوے مر رہوں گا۔تا مجھے بارگاہ ایزدی میں یہ کہنے کا حق ہو کہ میری طاقت اور بساط میں جو تھا اس میں میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اب اگر میری قسمت میں نہ تھا تو میرے اختیار کی بات نہ تھی۔شیخ صاحب نے اس پر کہا کہ ایک بزرگ کا پتہ میں بھی آپ کو بتا دوں ؟ اس نے کہا کہ مجھے اور کیا چاہئے؟ شیخ صاحب نے حضرت صاحب کا پتہ ان کو بتایا کہ یہاں سے چار پانچ اسٹیشن ایک مقام بٹالہ شہر ہے۔اس سے دس گیارہ میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹا قصبہ قادیان نامی ہے وہاں ایک بزرگ مرزا غلام احمد نام ہیں۔صاحب الہام ہونے کا ان کا دعویٰ ہے۔اسلام اور قرآن مجید کی حمایت میں انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو اسی مطبع میں چھپ رہی ہے اگر آپ چاہیں تو اس کی کا پیاں میں آپ کو دکھا سکتا ہوں۔اس میں انہوں نے اپنے الہام اور پیشگوئیاں بھی درج کی ہیں اور عیسائیوں ، آریوں اور بر ہموسماجیوں کے اعتراضات کے جو انہوں نے اسلام اور قرآن مجید کے متعلق کئے بڑے پر زور جواب دئے ہیں اور لوگوں کو مقابلہ کے لئے بلایا ہے اور ان کی مسلمہ کتب پر ایسے اعتراضات کئے ہیں کہ تمام ملک میں اس کا چرچا ہے اور ہندوستان و پنجاب کے بڑے بڑے علماء اور اخبارات نے اس کی بڑی تعریف کی ہے کہ ایسی کتاب آج تک اسلام کی تائید میں نہیں لکھی گئی۔آپ نے جہاں اور بزرگوں کو دیکھا ہے یہاں سے کچھ دور نہیں ہے ان کو بھی دیکھ لو اس پر وہ درویش صاحب بولے کہ نہیں منشی صاحب ایسے اصحاب جو بحث و مباحثہ اور جھگڑے کرنے والے ہوں۔میری گوں کے نہیں ہیں۔میرا کام تو اگر خدا کو منظور ہے تو کسی